پارک اراضی کا تنازع،ملکیت کی تفصیلی رپورٹ طلب
دستاویزات نہیں تو پھر دیگر مقامات کی ملکیت بھی سوالیہ بن سکتی ہے ،عدالتحکومت کے پاس ایک ایک انچ زمین کا ریکارڈ ہونا چاہیے ،دوران سماعت ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے لیاری کے اسماعیل شہید پارک کی اراضی سے متعلق تنازع میں زمین کی ملکیت واضح کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران اسسٹنٹ کمشنر لیاری اور ٹی ایم سی لیاری کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے ۔واٹر کارپوریشن کے وکیل ولید خانزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ مقام کو پارک ظاہر کرنے کے لیے عزیر بلوچ کے نام کی تختی کے شواہد پیش کئے گئے ۔ کسی کے نام کی تختی لگانے سے جگہ پارک قرار نہیں دی جا سکتی۔ ٹی ایم سی لیاری کے وکیل جہانگیر کلہوڑو نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کا تعلق چالیس لاکھ افراد کو پانی کی فراہمی سے ہے ، اس لیے اس تناظر میں بھی معاملہ اہمیت کا حامل ہے ۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ آیا اراضی واٹر کارپوریشن کی ملکیت ہے ، جس پر وکیل واٹر کارپوریشن نے اعتراف کیا کہ ادارے کے پاس ٹائٹل دستاویز موجود نہیں۔ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ چیک کیا جائے ، دستاویزات ضرور موجود ہوں گی، جبکہ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ اگر دستاویزات نہیں تو پھر دیگر مقامات کی ملکیت بھی سوالیہ بن سکتی ہے ۔ ٹی ایم سی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اصل اراضی سندھ حکومت کی ملکیت ہے ، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے پاس ایک ایک انچ زمین کا ریکارڈ ہونا چاہیے ۔