شدید گرمی میں بدترین لوڈشیڈنگ ،نظام زندگی مفلوج

شدید  گرمی  میں  بدترین  لوڈشیڈنگ ،نظام  زندگی  مفلوج

بجلی کی مسلسل بندش کے باعث گھریلو زندگی اورکاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ،شہریوں میں شدید غم و غصہ ،حکومت سے نوٹس کا مطالبہبیشتر علاقوں میں دورانیہ 15گھنٹے تک پہنچ گیا،بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کا سامنا ،صارفین، مختلف اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک

کراچی(رپورٹ محمد حمزہ گیلانی) شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات کے باوجود شہرِ قائد میں بدترین اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، جبکہ شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے بجلی کی مسلسل بندش کے باعث نہ صرف گھریلو زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہونے لگی ہیں کے الیکٹرک نے ہیٹ ویو الرٹ کے باوجود کئی صفحات پر مشتمل لوڈشیڈنگ شیڈول جاری کر رکھا ہے جسکے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں طویل دورانیے کی بجلی بندش جاری ہے ۔ کمپنی موقف اختیار کرتی ہے کہ لوڈشیڈنگ کا اطلاق ان علاقوں پر کیا جا رہا ہے جہاں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی زیادہ ہے تاہم شہری اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوں کی باقاعدہ ادائیگی کے باوجود انہیں لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے شہر کے مختلف اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقوں لیاقت آباد، ایف بی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد ، نیو کراچی میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہتی ہے ۔

ڈسٹرکٹ ایسٹ میں گلشن اقبال، گلستان جوہر اور شانتی نگر میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہے ، جبکہ ڈسٹرکٹ ملیر کے کھوکھراپار،سعود آباد، شاہ فیصل اور ملیر ٹنکی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 گھنٹوں سے تجاوز کرچکا ہے اسی طرح اسکیم 33 کے متعدد علاقوں میں ٹیکنیکل فالٹس کے باعث بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے ، جبکہ ڈسٹرکٹ ویسٹ کے علاقوں میں گارڈن، عثمان آباد اور لیاری میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 15 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے دوسری جانب اورنگی اورکورنگی میں بھی اعلانیہ لوڈشیڈنگ 12 سے 15 گھنٹے تک جاری ہے اسکے علاوہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے علاقے صدر میں بھی صورتحال ابتر ہے جہاں روزانہ صرف 6 سے 7 گھنٹے بجلی کی فراہمی معمول بن چکی ہے ۔ کے الیکٹرک ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں تقریباً 3 ہزار سے زائد پی ایم ٹیز پر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ، تاہم بجلی کی مجموعی طلب و رسد کے حوالے سے کوئی واضح اعداد و شمار فراہم نہیں کیے جا رہے ۔اس حوالے سے کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا سے موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوااور موقف دینے سے گریز کیا شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ ہے اور دوسری جانب طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن بنا دی ہے عوام نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں