نمکیات میں اضافہ، ٹھٹھہ، بدین، سجاول کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر

نمکیات میں اضافہ، ٹھٹھہ، بدین، سجاول کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر

محکمہ زراعت کے معلومات فراہم نہ کرنے پرفصلوں کی پیداوار میں کمی، کاشتکار پریشاننقصانات سے بچنے کیلئے کاشتکار زرعی زمینوں کی مٹی کاکیمیائی تجزیہ کرائیں، زرعی ماہر

دڑو (رپورٹ:امداد میمن)نمکیات میں اضافے سے سجاول، ٹھٹھہ اور بدین اضلاع کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہو گئی۔ محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو اگائی جانے والی فصلوں کے بارے میں بروقت معلومات فراہم نہیں کیں جس کے نتیجے میں کاشت فصلوں سے کم پیداوار حاصل ہو رہی ہے جس سے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ اس حوالے سے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معروف زرعی ماہر ڈاکٹر نیاز احمد میمن نے کہا کہ ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے ساحلی اضلاع کی زرخیز زمینوں کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ زمین میں نمکیات کا بڑھنا ہے ۔ اس لیے کاشتکار اپنی زمینوں کی مٹی کا کیمیائی تجزیہ کرائیں اور رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زمینوں کو زرخیز بنائیں، ورنہ آئندہ چند سال میں زرخیز زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔

زرعی ماہر نے کہا کہ حال ہی میں ساحلی پٹی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں سورج مکھی کی فصل کی کم پیداوار کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کی کچھ بڑی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ کسانوں نے سورج مکھی کی فصل کو وقت پر نہیں بویا اور دوسرا یہ کہ بوائی کرتے وقت ماہرین زراعت کے مشورے پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سورج مکھی کی فصل کو زرعی سفارش کے مطابق کاشت کیا جائے ۔ ورنہ سورج مکھی کا پھول کمزور ہوجاتا ہے ، وزن کم ہونے سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں ہوتی، فصل کو متوازن پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن پانی کی کمی یا زیادہ پانی کی فراہمی بھی نقصاندہ ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں