ممکنہ نجکاری کیخلاف حیسکو، سیپکو ملازمین کے مظاہرے ودھرنے

ممکنہ نجکاری کیخلاف حیسکو، سیپکو ملازمین کے مظاہرے ودھرنے

سندھ بھر میں ریلیاں نکالی گئیں، شرکا کی حکومت کے خلاف نعرے بازینجکاری سے ہزاروں ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑجائیگا، رہنماؤں کا خطاب

اندرون سندھ (نمائندگان)ممکنہ نجکاری کیخلاف حیسکو اور سیپکو کے ملازمین نے سندھ بھر میں مظاہرے کئے ، ریلیاں نکالیں اور دھرنے دیئے ۔ شرکا نے حکومت کیخلاف نعرے لگائے ، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نجکاری سے ہزاروں ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔ میرپورخاص میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ پر قومی اداروں کو فروخت کرنا چاہتی ہے ، عوام پہلے ہی مہنگی بجلی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجکاری کے بجائے بجلی کے شعبے میں موجود بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ گھوٹکی میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت منافع بخش قومی اداروں کی نجکاری اور ٹھیکیداری نظام متعارف کرانے کی پالیسی پر گامزن ہے ، جس سے ہزاروں ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ پڈعیدن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیپکو کی نجکاری ملازمین اور عوام دونوں کے مفادات کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ادارے کو سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے ۔ کندھکوٹ میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ واپڈا کی نجکاری ملازمین کے حقوق کی پامالی ہے ، اس کی مذمت کرتے ہیں، واپڈا کے ورکر کسی بھی ناانصافی اور ناجائز اقدام کو مسلط ہونے نہیں دیں گے۔ جیکب آباد میں رہنماؤں نے کہا کہ نجکاری سے ملازمین کے روزگار کو خطرات لاحق ہوں گے جبکہ عوام کو بھی بہتر سہولیات کے بجائے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لاڑکانہ میں کہا کہ ہم کسی بھی صورت پاور کمپنیز کی نجکاری قبول نہیں کرینگے کیونکہ اس سے ملازمین کا تحفظ غیر یقینی بن جائیگا اور ملک میں بجلی مہنگی ہو جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں