شہدادپور:مسلح افراد نے جمڑاؤ کے پانی کا رخ سیم نالے میں موڑدیا
تین روز سے تقریباً 11 ہزار ایکڑ زرعی رقبے کو پانی کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی حکام پانی بحال، بااثر مسلح عناصر کیخلاف سخت کارروائی کریں، علاقہ مکین ،زمیندار
شہدادپور (نمائندہ دنیا) شہدادپور کے نواحی علاقے شیر خان لغاری کے قریب جمڑاؤ کینال کی آر ڈی 36 سے نکلنے والی شاخ اے کیو ون آر کو نامعلوم مسلح افراد نے توڑ کر پانی کا رخ سیم نالے کی جانب موڑ دیا، جس کے باعث گزشتہ تین روز سے تقریباً 11 ہزار ایکڑ زرعی رقبے کو پانی کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی ہے ۔ متاثرہ مقام پر موجود مقامی کاشتکاروں کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے نہر کے پانی کا رخ موڑا۔ انہوں مطالبہ کیا کہ علاقے کے زمیندار اس شاخ میں ڈوب جانے والے مویشیوں کا ہرجانہ ادا کریں، شدید گرمی کے موسم میں پانی کی بندش کے باعث کاشتکاروں کی کھڑی فصلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ قیمتی پانی فصلوں کو ملنے کے بجائے سیم نالے میں ضائع ہورہا ہے ۔ علاقہ مکینوں اور زمینداروں نے اس اقدام کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ زمینداروں کا کہنا تھا ذاتی رنجش پر پوری زرعی معیشت کو نشانہ بنانا اور پانی جیسے بنیادی حق کو روکنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ سندھ آبادگار کے رہنما یار محمد لغاری ، زمیندار سہیل لغاری و دیگر نے محکمہ زراعت کے حکام سے مطالبہ کیا کہ فی الفور صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے نہر سے روکا گیا پانی بحال کیا جائے اور نہر توڑنے والے بااثر مسلح عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ ہو۔