ملک میں صنفی بنیاد پرتشدد کے 3172 کیسز ہوئے ، ساحل رپورٹ

ملک میں صنفی بنیاد پرتشدد کے 3172 کیسز ہوئے ، ساحل رپورٹ

18کیسز میں ٹرانس جینڈر شامل، 644قتل، 514تشدد، 462اغوا ہوئے363خودکشی، 280ریپ، 175زخمی، 132غیرت پرقتل اور 21دیگر شامل

سکھر(بیورو رپورٹ)ساحل چھ مہینوں کی ظالمانہ صنفی بنیاد پر تشدد کے اعداد و شمار کی رپورٹ جاری کردی۔ جوقومی اور علاقائی اخبارات سے جمع معلومات پر مبنی اور چاروں صوبوں کے علاوہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT)، آزاد جموں و کشمیر (AJK)، اور گلگت بلتستان (GB) سے حاصل کی گئی ہیں۔2026 کے پہلے نصف میں ساحل نے ملک میں صنفی بنیاد پر تشدد کے کل 3,172 کیسز ریکارڈ کیے ۔ ان میں سے 18 کیسز میں ٹرانس جینڈر شامل تھے ۔644 قتل، 514 تشدد، 462 اغوا، 363 خودکشی، 280 ریپ، 175 زخمی، 132 عزت کے قتل، اور 21 دیگر قسم کے جرائم جیسے ہراسانی، گروہی ریپ اور فحاشی شامل ہیں۔ 334 کیسز 21-30 سال کی عمر کے گروپ میں ہوئے ، 306 کیسز 11-20سال کے عمر کے گروپ میں 120 کیسز 31-40سال کی عمر کے گروپ میں ہوئے ، 71% کیسز میں متاثرہ افراد کی عمر کا ذکر نہیں تھا۔

کل مقدمات میں 27% میں زیادتی کرنیوالا جاننے والا، 24% اجنبی، 13% شوہر تھے اور 20% مقدمات میں زیادتی کرنیوالے کی شناخت نہیں ہو سکی۔ زیادہ تر صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات (54%) متاثرہ کے اپنے گھر میں ہوئے ، جبکہ 12% زیادتی کرنیوالے کے گھر میں، یہ دونوں سب سے عام جگہیں تھیں کل مقدمات میں سے 74% پنجاب سے رپورٹ ہوئے اور 17% سندھ سے ۔ باقی مقدمات دیگر صوبوں سے رپورٹ ہوئے جن میں 6% کے پی، 3% بلوچستان، آئی سی ٹی، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...