لاڑکانہ:نیوبس ٹرمینل میں پیپلز بس ٹرمینل بنانے کیخلاف تحریک شروع
سینکڑوں دکانوں کی ممکنہ مسماری کیخلاف دکانداروں کاٹرمینل کے اندر ہی کیمپ قائمٹرانسپورٹرز شریک، انتظامیہ کیخلاف نعرے ، سابق ناظم نے دکانیں الاٹ کیں، رہنما
لاڑکانہ(بیورو رپورٹ)بلدیہ کی جانب سے نیو بس ٹرمینل میں پیپلز بس سروس کا ٹرمینل قائم کرنے اور ٹرمینل کی سینکڑوں دکانوں کوممکنہ مسمار کرنے کیخلاف نیو بس ٹرمینل کے اندر کیمپ قائم کرکے احتجاجی تحریک شروع کردی گئی، جہاں دکانداروں اور ٹرانسپورٹرز نے میونسپل کارپوریشن کیخلاف شدید نعرے بازی کی، اس موقع پر احتجاج کرنیوالے ٹرانسپورٹ یونین کے صدر جاوید علی مٹھانی، چیئرمین ٹرانسپورٹ یونین بہادر خان جلبانی، جنرل سیکریٹری علی حسن کہیری اور دیگر نے میڈیا کے سامنے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ سال 2010ء میں نیو بس ٹرمینل میں سابق تعلقہ ناظم قربان عباسی کی جانب سے دکانداروں کو 800 دکانیں الاٹ کی گئی تھیں، جہاں ہم ٹرانسپورٹ، آٹو، گیراج سمیت دیگر کاروبار کرکے اپنے اہلخانہ کا پیٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماہانہ کرایہ ادا کرنے کے ساتھ میونسپل کارپوریشن، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو مختلف ٹیکسوں کی مد میں ہزاروں روپے ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نیو بس ٹرمینل میں پیپلز بس سروس کا ٹرمینل قائم کرنے کیلئے ہمیں نوٹس جاری کرکے دکانیں خالی کرانے کے بینرز لگائے گئے ہیں، جس کے باعث ہزاروں محنت کش بیروزگار ہونے کے ساتھ ان کے اہلخانہ بھوک کا شکار ہونے پر مجبور ہوجائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام دکاندار پیپلز پارٹی کے ووٹر اور سپورٹر ہیں۔ پیپلز پارٹی کا منشور روٹی، کپڑا اور مکان ہے ، لیکن افسوس کہ میونسپل کارپوریشن ہم سے یہی چیزیں چھیننا چاہتی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر طارق منظور چانڈیو اور میئر ہماری شکایات کا نوٹس نہیں لے رہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments