کے ایم سی کی املاک کی بندربانٹ قبول نہیں، سیف الدین

کے ایم سی کی املاک کی بندربانٹ قبول نہیں، سیف الدین

سٹی کونسل ایجنڈے میں املاک منتقلی کے منصوبے پر شدید تحفظات ہیں،اپوزیشن لیڈر قیمتی اراضی کی الاٹمنٹ کی تحقیقات، نجی اداروں کو منتقلی فوری روکی جائے،پریس کانفرنس

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی قیمتی املاک کی بندر بانٹ کسی صورت قبول نہیں، 11ستمبر کے سٹی کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل بلدیہ عظمیٰ کراچی کی قیمتی املاک کو مختلف اداروں اور نجی فریقین کے حوالے کرنے کے منصوبے پر شدید تحفظات ہیں۔ کراچی کی قیمتی اراضی اور املاک کی بندربانٹ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، اس حوالے سے بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی املاک کو ٹھکانے لگانے کے منصوبے اور 11 ستمبر کو سٹی کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کے ایم سی کی قیمتی املاک اور عوامی وسائل عوام کی امانت ہیں۔ انہیں من پسند افراد یا اداروں کے حوالے کرنے کے بجائے کراچی کے شہریوں کے مفاد میں استعمال کیا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11ستمبر کے سٹی کونسل اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کے ایم سی کی املاک سے متعلق تمام معاملات کو شفاف طریقے سے زیرِ بحث لایا جائے ، تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں، قیمتی سرکاری اراضی کی تجارتی حیثیت تبدیل کرنے اور الاٹمنٹ کے معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور کے ایم سی کی املاک کو نجی افراد یا اداروں کے حوالے کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے ۔ ایک طرف کے ایم سی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے پاس پیسہ نہیں ،دوسری طرف 22 وکلا کو ماہانہ لاکھوں روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔بعض وکلا کو چار لاکھ، تین لاکھ اور ایک لاکھ اسی ہزار روپے ماہانہ تک ادا کیے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر تقریباً سات کروڑ روپے سالانہ وکلا کی فیس کی مد میں خرچ کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...