سندھ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 8نکاتی مطالبات پیش
حقوق کوبنیادی شہری حقوق کے طور دیکھا جانا چاہیے ، کامران مائیکل، شفیق چوہدریروزگار، تعلیم، تشدد سے تحفظ ودیگر شعبوں میں موجود خلا کو دور کیا جائے ، خطاب
کراچی (سٹی ڈیسک )پارلیمنٹری کونسل فار ہیومن رائٹس اور اقلیتی نمائندوں نے سندھ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 8 نکاتی مطالبات پیش کر دیے ۔ رکن قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل، پارلیمنٹری کونسل فار ہیومن رائٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری اور دیگر نے مقامی ہوٹل میں میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کو کسی مخصوص یا ضمنی مفاد کے بجائے بنیادی شہری حقوق کے بطور دیکھا جانا چاہیے ۔مقررین نے کہا کہ سیاسی شرکت، شہری آزادیوں، روزگار، تعلیم، سماجی تحفظ، ثقافتی حقوق اور تشدد و جبر سے تحفظ کے شعبوں میں موجود خلا دور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سول سوسائٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر 2023 میں جبری تبدیلیٔ مذہب کے 136 مبینہ واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں زیادہ تر سندھ کی ہندو خواتین اور لڑکیاں شامل تھیں ۔ مقررین نے شعبہ تعلیم میں نصابی کتب سے امتیازی اور دقیانوسی مواد ختم کرنے ، اقلیتوں کی تاریخ، ثقافت اور ورثے کو نصاب میں شامل کرنے ، اقلیتی طلبہ کیلئے وظائف اور اہل اقلیتی اساتذہ کی بھرتی پر زور دیا۔انہوں نے سماجی تحفظ کے پروگراموں، صحت، تعلیم، رہائش، صاف پانی، روزگار اور فلاحی اسکیموں میں اقلیتوں کی رسائی جانچنے کیلئے مذہب کی بنیاد پر الگ اعداد و شمار جمع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کی شمولیت کیلئے تعلیم، روزگار، قانونی امداد، سماجی تحفظ اور عبادت گاہوں و ثقافتی ورثے کے تحفظ سمیت قابلِ پیمائش سرکاری وسائل مختص کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments