روشم خان قتل ،عدالت کانیا تفتیشی افسر مقرر کرنے کاحکم
ریکارڈ پر آنے والی خامیوں کے باعث شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری مشتبہ افراد کی رہائی ،گرفتاری سے متعلق آگاہ نہ کرنا تشویشناک ، ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل سیشن عدالت غربی نے منگھوپیر میں گھر کے اندر فائرنگ سے طالبعلم روشم خان کے قتل کے مقدمے میں مدعی کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو مقدمے کی تفتیش تبدیل کرنے اور ڈی ایس پی رینک کے افسر کو نیا تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کی رپورٹ کے مطابق دو ملزمان دلاور عرف طارق اور رضوان عرف آصف کو عدم شواہد کی بنا پر رہا کیا گیا جبکہ پولیس نے مدوات اور شیر خان کو مقدمے میں گرفتار کیا ہے ۔ پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ ملزمان کی شناخت کیلئے سامنے نہیں آئے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس نے ملزمان سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں اور جائے وقوعہ سے ملنے والے خول کو فرانزک معائنے کیلئے نہیں بھیجا۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ مشتبہ افراد کی رہائی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری سے متعلق مدعی مقدمہ کو آگاہ نہ کرنا تشویشناک ہے ، ملزمان کی شناخت سائنسی شواہد کا متبادل نہیں اور ریکارڈ پر آنے والی خامیوں کے باعث شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل قادر خان مندوخیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس وردی میں ملبوس ملزمان نے گھر میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ کرکے روشم خان کو قتل کیا۔ابتدائی تفتیشی افسر کی تبدیلی کے باوجود مقدمے میں خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی اور تفتیشی ٹیم اصل ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments