مشینری نہ مطلوبہ وسائل، 21 اضلاع میں واسا کو مشکلات
فیلڈ آپریشنز متاثر، خلا کو پورا کرنے کیلئے 7 ارب پچاس کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ درکار ،منظوری کابینہ سے لی جائیگی مطلوبہ مشینری کی عدم دستیابی کے باعث سیوریج لائنوں کی صفائی، برساتی پانی کی نکاسی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنا مشکل
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )پنجاب کے 21 اضلاع میں واسا ایجنسیوں کے قیام کو انتظامی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ، تاہم نو تشکیل شدہ ادارے وسائل کی کمی کے باعث عملی مشکلات سے دوچار ہیں۔ سرکاری سمری میں اعتراف کیا گیا ہے کہ نئی ایجنسیوں کے پاس مطلوبہ مشینری نہ ہونے کے برابر ہے ، جس کی وجہ سے روزمرہ فیلڈ آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس خلا کو پور کرنے کرنے کیلئے 7ارب پچاس کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ درکار ہوگی، جس کی منظوری صوبائی کابینہ سے لی جائے گی۔
منصوبے کے تحت 385 مختلف اقسام کی مشینری اور آلات خریدنے کی تجویز دی گئی ہے ، جن میں سلج سکشن، جیٹنگ مشینز، ڈی واٹرنگ سیٹس، ایکسکویٹرز، ڈی سلٹنگ مشینیں اور واٹر باؤزرز شامل ہیں۔ مطلوبہ مشینری کی عدم دستیابی کے باعث کئی اضلاع میں سیوریج لائنوں کی صفائی، برساتی پانی کی نکاسی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنا مشکل ہو رہا ہے ۔ خاص طور پر مون سون کے دوران یہ کمی بڑے شہری مسائل کو جنم دے سکتی ہے ۔اضلاع کی سطح پر صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے ۔ قصور، چنیوٹ اور خانیوال سمیت متعدد اضلاع کو درجنوں اقسام کی مشینری درکار ہے ، جبکہ بہاولنگر، مظفر گڑھ، منڈی بہاؤالدین، پاکپتن، چکوال اور وہاڑی جیسے اضلاع میں بھی موجود وسائل ضرورت سے کم ہیں۔
وزیر آباد، لیہ، لودھراں، اٹک، خوشاب، بھکر، راجن پور، نارووال، میانوالی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی مؤثر آپریشنز کیلئے اضافی آلات کی فوری ضرورت بتائی گئی ہے ۔ تونسہ، کوٹ ادو اور تلہ گنگ میں بھی فیلڈ سٹاف محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہے ۔19اضلاع میں باقاعدہ واسا جبکہ 3 اضلاع میں سب واسا قائم کیے گئے ہیں، مگر ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کے باوجود مطلوبہ مشینری کے بغیر مکمل فعالیت ممکن نہیں۔