سڑکوں پر بے ہنگم کٹس،یوٹرنز ،ٹریفک کی روانی متاثر

سڑکوں پر بے ہنگم کٹس،یوٹرنز ،ٹریفک کی روانی متاثر

شہرمیں پٹرول پمپس،ریسٹورنٹس ودیگراملاک کے سامنے بغیر منظوری بنائے گئے کٹس اوریوٹرنز نے ٹریفک نظام کو مفلوج کر دیا ،حادثات کا خطرہ بڑھ گیا

لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں سگنل فری کوریڈورز، کشادہ شاہراہیں اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری مگرسڑکوں پر بے ہنگم کٹس اور غیر قانونی یوٹرنز نے ٹریفک کے نظام کو مفلوج کر دیا۔ شہر میں جدید روڈ انجینئرنگ کے دعوے تو بہت کیے گئے مگر عملدرآمد میں خامیاں کھل کر سامنے آ گئیں۔ سروے میں لاہور کی مرکزی اور سیکنڈری شاہراہوں پر ہزاروں غیر قانونی روڈ کٹس اور یوٹرنز کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے ٹریفک کی روانی کو شدید متاثر کر رکھا ہے ۔باوثوق ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر پرائیویٹ افراد نے متعلقہ اداروں کی ملی بھگت سے سڑکوں کو کاٹ کر غیر قانونی راستے بنا لیے ۔ اربوں لاگت سے بننے والے سگنل فری کوریڈورز بھی اس بے ضابطگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ شاہراہ نظریہ پاکستان پر بننے والا سگنل فری منصوبہ جس پر تقریباً 74 کروڑ 38 لاکھ خرچ کیے گئے آج غیر قانونی روڈ کٹس پر اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے ۔

اسی طرح خیابان فردوسی اور خیابان جناح پر فٹ پاتھ توڑ کر براہ راست راستے بنا لیے گئے جو ناصرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پیدل چلنے والوں کیلئے بھی خطرہ ہیں ۔رائیونڈ روڈ، ملتان روڈ، یتیم خانہ چوک اور فیروزپور روڈ جیسے اہم ٹریفک کوریڈورز پر بھی یہی صورتحال ہے جہاں کمپنیز، پٹرول پمپس،معروف ریسٹورنٹس ودیگر املاک کے سامنے بغیر منظوری کٹس بنائے گئے ہیں۔ ایوب چوک پر قائم پروٹیکٹڈ یوٹرن کے سامنے دونوں اطراف کٹس موجود ہیں جوجدید ٹریفک سسٹم کی افادیت کو ختم کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل ڈی اے اور ٹیپا کی جانب سے نہ تو روڈ کٹس کا کوئی جامع ڈیٹا تیار کیا گیااور نہ ہی انکے تدارک کیلئے کوئی مؤثر حکمت عملی وضع کی گئی۔ کسی بھی مقام پر غیر قانونی کٹ بند کرنے یا ذمہ داران کو جرمانہ کرنے کی کوئی نمایاں کارروائی سامنے نہیں آئی۔عالمی انجینئرنگ اصولوں کے تحت کسی بھی پروٹیکٹڈ یوٹرن کے اطراف کم از کم 300 میٹر تک کٹ سے پاک زون ہونا ضروری ہوتا ہے مگر لاہور میں یہ اصول مکمل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً پروٹیکٹڈ یوٹرن کا تصور ختم ہو چکا ہے اور غیر قانونی کٹس نے پورے ٹریفک نظام کو مفلوج کر دیا ہے جو حادثات کے خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں