ٹیکسوں کی بھرمار، پولٹری انڈسٹری کو سنگین بحران کا خطرہ
مرغی اور اسکے گوشت پر مجموعی طور پر 65 فیصد ٹیکس عائد ہوچکا:میاں قاسم
لاہور(سٹاف رپورٹر ) ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث پولٹری انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہوچکی ، مستقل قریب میں مرغی کے گوشت کے سنگین بحران کا خطرہ ہے ۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سینئر مرکزی رہنمامیاں قاسم نے ایک میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بے جا ٹیکسوں نے پولٹری انڈسٹری کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے ، چوزے پر دس روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اربوں کی سرمایہ کاری کرنیوالوں پر ظلم ہے جس سے فارمرز کا روزانہ کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے ، اگر ختم نہ کیا گیا تو سستی پروٹین عوام کی دسترس سے باہر ہو جائیگی، 80 سے 85 روپے کی لاگت والا چوزہ دس روپے میں فروخت ہورہا ہے ، 10 روپے ایکسائز ڈیوٹی کہاں سے دی جائے ، انہوں نے کہا کہ ٹیکس منافع سے ہوتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چوزے کی فروخت میں ستر، پچھہتر روپے نقصان پر بھی دس روپے ٹیکس دیا جائے ، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مرغی اور اس کے گوشت پر مجموعی طور پر 65 فیصد ٹیکس عائد ہوچکا۔