سکولوں سے سالانہ 64ارب آمدن کا منصوبہ کاغذوں تک محدود
غیر استعمال شدہ اثاثوں سے اضافی وسائل پیدا کرنے کے آپشنز پر عمل نہ ہو سکا
لاہور(خبر نگار)پنجاب میں سرکاری سکولوں کے اثاثوں سے سالانہ 64 ارب روپے آمدن کا منصوبہ تاحال کاغذوں تک محدود،سکولوں کو مالی خودمختاری دینے اور غیر استعمال شدہ اثاثوں سے اضافی وسائل پیدا کرنے کیلئے محکمہ سکول ایجوکیشن کے 16 آپشنز پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ کہیں سکولوں کی دیواروں پر اشتہارات لگانے کی تجویز ہے تو کہیں خالی اراضی پر مارکیٹیں، دکانیں اور سولر منصوبے لگانے کا پلان مراربوں کی آمدن کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔اضافی آمدن کیلئے 16 مختلف آپشنز میں مرکزی شاہراہوں پر واقع سکولوں کی دیواروں پر برانڈنگ اور بل بورڈز لگانے ،سکولوں کی اضافی زمین پر مارکیٹیں اور دکانیں بنانے ، موبائل فون کمپنیوں کو ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی پیشکش پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔سکولوں کی چھتوں اور خالی اراضی پر سولر منصوبے لگانے کا پلان بھی زیر التوا ہے ۔ سکول گراؤنڈز، ہالز اور کمپیوٹر لیبز کرائے پر دینے کی تجاویز بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ دیہی سکولوں کی زرعی اراضی لیز پر دینے اور اضافی زمین پر نرسریاں بنانے کے آپشنز پر بھی پیشرفت نہ ہو سکی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments