تفتیشی رپورٹ الزام کی تائید نہیں کرتی:ہائیکورٹ ، ضمانت کی توثیق

 تفتیشی رپورٹ الزام کی تائید نہیں کرتی:ہائیکورٹ ، ضمانت کی توثیق

طالبہ کے مبینہ اغوا، زیادتی کیس میں ملزم کی ضمانت 10لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے سکول طالبہ کے مبینہ اغواو زیادتی کیس میں ملزم کی عبوری ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ پولیس کی تفتیشی رپورٹ الزام کی تائید نہیں کرتی۔جسٹس شہباز رضوی نے عبوری ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری کردیاجس میں قرار دیا گیا ہے کہ ملزم اعظم کیخلاف تھانہ اوکاڑہ پولیس کے مقدمہ میں مدعی کے مطابق ملزم نے سکول سے اسکی بیٹی کو اغوا کیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا،ملزم کے کردار کا تعین شواہد اور ثبوت پر ٹرائل کورٹ کرے گی۔

تفتیشی رپورٹ اغوا کے الزام کی تائید نہیں کرتی،کم عمری میں نکاح کے پر بھی انکوائری درکار ہے ،متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا ،درخواست گزار سے نکاح کیا۔ مدعی کے مطابق بیٹی سے نکاح پندرہ سال کی عمر میں ہوا، میڈیکل بورڈ نے بھی بچی کی عمر پرساڑھے چودہ سے پندرہ سال قرار دی تھی۔پولیس رپورٹ اور لڑکی کے بیان کی روشنی میں اغوا کی دفعہ نہیں لگتی،اگر شادی کی عمر چودہ اور پندرہ سال ہے تو یہ چائلڈ رسٹرین میرج ایکٹ کی خلاف ورزی ہے ،عدالت ملزم کی عبوری ضمانت10لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کرتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...