نامزد ملزم کے اہلخانہ نے زیادتی کا مقدمہ جھوٹا قرار دیدیا،احتجاجی مظاہرہ
جہانیاں (نمائندہ دنیا) نواحی گاؤں 114 دس آر میں 13 سالہ بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمہ نے نیا رخ اختیار کر لیا۔۔۔
نامزد ملزم کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے جہانیاں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقدمہ کو بے بنیاد قرار دیا اور اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس کے دوران ملزم کی والدہ اور دیگر اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق مدعی فریق کی جانب سے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے نقد اور ایک پلاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر زیادتی کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا جبکہ ان کا مؤقف سننے یا شواہد کی مکمل جانچ نہیں کی گئی۔ ملزم کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو انصاف فراہم کیا جائے اور واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔پریس کانفرنس کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے جہانیاں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ مقدمہ کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور آر پی او ملتان سے معاملہ کا نوٹس لینے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے ۔