ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مریضوں کومشکلات
وہاڑی (خبرنگار) ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ سامنے آیا ہے جس کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔
خاص طور پر شوگر اور تھائرائڈ کے مریض اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق انسولین ڈیوائس ہیومہ پین ایرگو ٹو کی قیمت تقریباً 2200 روپے سے بڑھ کر 4720 روپے تک پہنچ گئی ہے ، جبکہ تھائرائڈ کی دوا تھائینورم (لیوو تھائروکسین) کی قیمت 85 روپے سے بڑھ کر 290 روپے ہو گئی ہے ، جو دو سو گنا سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے ۔ اسی طرح دیگر ادویات کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں، سِٹرو سوڈا 530 سے بڑھ کر 620 روپے ،سربیکس زیڈ 480 سے بڑھ کر 510 روپے ،بیوی ڈوکس 500 سے بڑھ کر 600 روپے ،ٹائیو وئیر 805 سے بڑھ کر 930 روپے ہوگئی۔ماہرین کے مطابق یہ وہ ادویات ہیں جو روزمرہ استعمال میں آتی ہیں اور ان کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مریضوں کے علاج کو متاثر کر رہا ہے ۔مختلف سماجی شخصیات، کیمسٹ رہنما محمد ارشاد بھٹی، ارسلان سلیم، شیخ فضل الرحمن ایڈووکیٹ اور سہیل بھٹی ایڈووکیٹ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی نے زندگی مشکل بنا رکھی ہے ، اب ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کئی مریض مجبوری کے باعث علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے ۔