ویمن یونیورسٹی :ذہنی صحت پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
تشدد کے اثرات، روک تھام اور کمیونٹی ایکشن پر عالمی ماہرین کا تبادلہ خیال
ملتان (خصوصی رپورٹر)دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیر اہتمام \"وائلنس اینڈ مینٹل ہیلتھ: پریوینشن، انٹروینشن اینڈ کمیونٹی ایکشن\" کے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کچہری کیمپس میں شروع ہو گئی۔کانفرنس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ نفسیات، محققین، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور طالبات نے شرکت کی۔ اس کا مقصد تشدد اور ذہنی صحت سے جڑے سماجی و نفسیاتی مسائل کا سائنسی جائزہ لے کر مؤثر حل اور پالیسی سفارشات تیار کرنا ہے ۔
ڈاکٹر سعدیہ مشرف نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ تشدد ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جو ذہنی صحت، خاندانی استحکام اور سماجی ہم آہنگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن، اضطراب اور نفسیاتی صدمات اکثر تشدد کے نتائج ہوتے ہیں اور ان کے اثرات نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کہا کہ تشدد اب صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے ۔ انہوں نے \"سنٹر فار مینٹل ہیلتھ، کمیونٹی ویلبیئنگ اینڈ ڈیزیز\" کے قیام کا اعلان بھی کیا۔