نشتر میں ادویات کی قلت، پی ایم اے کا اظہار تشویش

نشتر میں ادویات کی قلت، پی ایم اے کا اظہار تشویش

فیکلٹی کی کمی، ڈاکٹرز ہاسٹل، آن لائن نظام پر شدید تحفظات، کمیٹیاں قائم

ملتان (لیڈی رپورٹر)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے ) کی کابینہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں نشتر ہسپتال میں جان بچانے والی ادویات اور انجیکشنز کی شدید قلت، نشتر ٹو میں فیکلٹی کی کمی، ڈاکٹرز ہاسٹل کی خستہ حالی اور آن لائن نظام سے متعلق مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی تحریری اجازت کے بغیر بازار سے خریدی گئی دوا یا انجیکشن مریض کو نہیں لگایا جا سکتا، جبکہ باہر سے ادویات تجویز کرنے پر بھی پابندی ہے ۔ ایسی صورت میں ہسپتال میں ادویات دستیاب نہ ہونے پر مریضوں اور لواحقین کا غصہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، جس سے علاج میں تاخیر اور مشکلات بڑھ رہی ہیں۔پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات اور انجیکشنز کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ اجلاس میں ڈاکٹرز ہاسٹل کی خستہ حالت، ٹوٹے دروازوں اور کھڑکیوں، ناقص صفائی اور دیگر سہولتوں کے فقدان پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔شرکاء نے عملے کی کمی کے باوجود مختلف امور کو مکمل طور پر آن لائن کرنے کے فیصلے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایمرجنسی میں مریضوں کے معائنے اور ادویات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے ۔ اجلاس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی بعض پالیسیوں اور سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں پر جرمانوں کے اقدامات پر بھی تحفظات ظاہر کئے گئے ۔ نشتر ٹو میں فیکلٹی کی کمی کے باعث آئی سی یو سمیت اہم شعبے غیر فعال ہونے کا معاملہ بھی اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ آئینی اور تنظیمی امور کے لیے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...