فوڈ انسپکٹر کی ضمانت درخواست ریگولر سماعت کیلئے مقرر
ملتان (کورٹ رپورٹر)ملتان ہائی کورٹ بینچ کے جج جسٹس شہرام سرور چوہدری نے محکمہ خوراک کے انسپکٹر عزادار حسین کی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزار کے وکیل مرزا محمد ادریس خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر ڈیڑھ کروڑ روپے کے مبینہ غبن کا الزام عائد کیا گیا ہے حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے کا اصل ذمہ دار اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر (اے ایف سی) ہے ، جسے نہ صرف گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ترقی دے کر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر لودھراں تعینات کر دیا گیا ہے ۔وکیل کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے صرف فوڈ انسپکٹر کو انکوائری کے لیے طلب کیا اور بعد ازاں گرفتار کر لیا، جبکہ درخواست گزار پہلے ہی گودام میں سٹاک کی کمی سے متعلق اپنے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر چکا تھا۔ اس نے چوکیدار کے خلاف مقدمہ بھی درج کرا رکھا ہے ۔ مزید یہ کہ اس کی ڈیوٹی گودام پر نہیں بلکہ چیک پوسٹ پر تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار گزشتہ 41 روز سے زیر حراست ہے ۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواستِ ضمانت کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments