دھان فیکٹری کی جلتی راکھ گھر میں پھینکنے سے بچہ ٹانگوں سے محروم

دھان فیکٹری کی جلتی راکھ گھر میں پھینکنے سے بچہ ٹانگوں سے محروم

ملازمیں نے گھر کے باہرجلتی راکھ پھیکنے سے منع کرنے پر کاشتکار پر اسلحہ تان لیامالک اور ملازم پر مقدمہ درج ،غریب کاشتکار کا وزیراعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

سکندرآباد (نامہ نگار) گجوہٹہ میں قائم دھان فیکٹری قریبی آبادی کے لیے وبال جان بن گئی فیکٹری ملازمیں نے جلتی راکھ شہری کے گھر باہر پھینک دی 7سالہ بچہ جھلس کر ہمشیہ کے دونوں ٹانگوں سے معذور ہوگیا فیکٹری ملازمیں نے گھر باہر کیمیکل گدی اور جلتی ہوئی راکھ پھیکنے سے منع کرنے پر غریب کاشتکار پر اسلحہ تان لیا ۔تھانہ سٹی میں فیکٹری مالک اور ملازم پر مقدمہ درج ۔غریب کاشتکار کا وزیراعلٰی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیل کے مطابق موضع گجوہٹہ میں انعام الحق نے عرصہ دراز سے دھان فیکٹری بنائی ہوئی ہے فیکٹری سے خارج ہونیوالا زہریلا کیمیکل گدی جلی ہوئی راکھ فیکٹری کے ملازم قریبی آبادی کے رہائشی لوگوں کے گھروں کے سامنے پھینک رہے ہیں فیکٹری ملازم اللہ ڈیوایا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹریکرٹرالی پر زہرا کیمیکل گدی جلی ہوئی گرم راکھ محمد اکبر کے بھائی عبد الشکور کے گھر سامنے پھینک رہا تھا منع کرنے پر اللہ ڈیوایا نے محمد اکبر پر اسلحہ تان لیا اور زہرا کیمیکل گدی جلتی ہوئی راکھ گھر کے سامنے پھینک کر فرار ہوگئے ۔محمد اکبر کا سات سالہ بھیجتا محمد منیر جلتی ہوئی راکھ کی زد میں آکر بری طرح جھلس گیا جسے تشویشناک حالت میں سول ہسپتال لایا گیا میڈیکل کے بعد حالت خراب ہونے پر نشتر ہسپتال ملتان ریفر کیاگیا جہاں پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ سات سالہ منیر دونوں سے معذور ہوچکا ہے ۔اگر یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہا تو دھان فیکٹری کی قریبی آبادی کے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا اور معذور ہوتے رہیں گے ۔تھانہ سٹی پولیس نے محمد اکبر کی درخواست پر دھان فیکٹری کے مالک اور ملازم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی محمد اکبر سمیت اہل علاقہ دھان فیکٹری کو آبادی سے باہر منقتل کرنے اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے واقع کا فوری نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...