سہولیات کا فقدان،نشتر 2مسائل کا گڑھ
کروڑوں مالیتی مشینر ی غیر فعال،ڈاکٹرز ،عملہ کو بائیو میٹرک حاضری پر تحفظات
ملتان(لیڈی رپورٹر) ملتان میں زیرِ تعمیر و فعال ہونے کے مختلف مراحل سے گزرنے والا نشتر-II ہسپتال مسائل کا گڑھ بن چکا ہے ۔ ڈاکٹرز کو رہائش، خوراک، عملے کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ انہی معاملات پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان نے ہسپتال کا دورہ کیا اور انتظامیہ سے مذاکرات کئے ۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے ) ملتان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کی قیادت میں وفد نے نشتر-II ہسپتال کا دورہ کیا جہاں سینئر، جونیئر اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز سے ملاقات کر کے انہیں درپیش مسائل سنے گئے ۔بعد ازاں وفد نے ڈاکٹرز کے نمائندگان کے ہمراہ وائس چانسلر آفس میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر-II سے ملاقات کی جس میں ڈاکٹرز کو درپیش انتظامی اور پیشہ ورانہ مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پی ایم اے نے کیفے ٹیریا کی عدم دستیابی، ڈاکٹرز کے لئے ہاسٹل اور رہائش کی سہولت، عملے کی شدید کمی، ورک پلیس مسائل، ہسپتال کی عمارت سے متعلق تحفظات اور دیگر انتظامی امور مؤثر انداز میں اٹھائے ۔اس دوران بتایا گیا کہ نشتر-II اس وقت متعدد مسائل سے دوچار ہے عملے کی شدید کمی کے باعث انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) تاحال فعال نہیں ہو سکا اور کروڑوں روپے مالیت کی جدید مشینری استعمال میں آنے کے بجائے غیر فعال پڑی ہے ۔ ڈاکٹرز اور عملے کے لئے رہائش اور کھانے پینے کی مناسب سہولیات بھی دستیاب نہیں جبکہ ہسپتال کی عمارت کا سیفٹی سرٹیفکیٹ بھی تاحال جاری نہیں کیا گیا، جس پر ڈاکٹرز میں تشویش پائی جاتی ہے ۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا جبکہ زیرِ التواء معاملات کے مستقل حل کے لئے سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔بائیومیٹرک حاضری کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے پی ایم اے کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments