لڑکی کے مبینہ اغوا کے بعد صلح کیلئے دباؤ، انصاف کا مطالبہ

 لڑکی کے مبینہ اغوا کے بعد صلح کیلئے دباؤ، انصاف کا مطالبہ

لڑکی کے مبینہ اغوا کے بعد صلح کیلئے دباؤ، انصاف کا مطالبہپنچایت کے ذریعے بیٹی کو واپس لایا،ملزموں نے عبوری ضمانتیں کروا لی : والد

  لودھراں(سٹی رپورٹر)19سالہ لڑکی کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد پنچایت کے ذریعے واپسی پر ملزمان کی جانب سے صلح کے لیے دباؤ ڈالنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ تھانہ صدر لودھراں کے علاقہ موضع واہی موٹن مل کے رہائشی محمد حنیف نے اپنی اہلیہ بخت سبھائی اور بیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی 19 سالہ بیٹی نامعلوم ملزمان نے مبینہ طور پر اغوا کیا، جس کا مقدمہ تھانہ صدر لودھراں میں درج کیا گیا۔ ان کے مطابق بعدازاں پولیس نے ضمنی میں اشرف خاں پٹھان، پیندے خان، اکبر خان، نعیم وغیرہ کو نامزد کرتے ہوئے مقدمے میں دفعہ کا اضافہ کیا۔ محمد حنیف نے بتایا کہ پنچایت کے ذریعے اپنی بیٹی کو واپس لایا، تاہم ملزمان نے عبوری ضمانتیں کروا لی ہیں اور اب انہیں صلح کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غریب لوگ ہیں جبکہ ملزمان بااثر ہیں، اس لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب پولیس اور ڈی پی او لودھراں سے اپیل ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے ، الزامات کی شفاف تحقیقات کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...