میرالی ہیلتھ کلینک میں بے ضابطگیاں، تین ملازمین برطرف
میرالی ہیلتھ کلینک میں بے ضابطگیاں، تین ملازمین برطرفکم تنخواہیں، نومولود بچوں کی اموات ،ادویات کے معیار پر سوالات،انکوائری جاری
میلسی (نمائندہ دنیا) نواحی موضع میرالی میں قائم مریم نواز ہیلتھ کلینک میں معاون عملے کی تنخواہوں میں مبینہ کٹوتیوں، پانچ نومولود بچوں کی اموات اور ادویات کے معیار سے متعلق شکایات سامنے آنے کے بعد انکوائری شروع کر دی گئی ہے ۔ اس دوران مکمل تنخواہوں کا مطالبہ کرنے اور ہیلتھ منیجر کے حق میں بیان نہ دینے پر تین ملازمین کو مبینہ طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔مقامی شہری عرفان محمود خان کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی وہاڑی کو دی گئی درخواست میں ہیلتھ منیجر ڈاکٹر ثوبیہ اقبال پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کائنات، رابعہ ظہور اور فروا رزاق سمیت ڈسپنسر محمد شاہد کو ماہانہ 43 ہزار روپے کے بجائے 30 ہزار روپے ، جبکہ چوکیدار صاحب یار اور نائب قاصد محمد الیاس کو 40 ہزار روپے کے بجائے 25 ہزار روپے ادا کیے جا رہے تھے ۔
درخواست گزار کے مطابق یہ سلسلہ مئی 2025ء سے جاری تھا۔درخواست میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ بعض مواقع پر ڈیجیٹل ادائیگی کے بعد ملازمین پر رقم محمد اقبال کے جاز کیش اکاؤنٹ میں واپس منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق محمد اقبال، ڈاکٹر ثوبیہ اقبال کے والد ہیں اور کلینک کے انتظامی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ ادویات کے معیار اور مریضوں سے مبینہ بدسلوکی کی شکایات بھی کی گئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ستمبر 2026ء میں کلینک میں ہونے والی 16 نارمل زچگیوں کے دوران یا پیدائش کے کچھ ہی وقت بعد پانچ نومولود بچے وفات پا گئے ۔ ان اموات کی وجوہات جاننے کے لیے طبی آڈٹ اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments