سرگودھا یونیورسٹی کا سٹرس کی بحالی،تحقیقی اقدامات کا اعلان
سرگودھا یونیورسٹی کا سٹرس کی بحالی،تحقیقی اقدامات کا اعلان پیداوار بڑھانے کے لیے ہر ممکن عملی اور تحقیقی اقدامات کیے جائیں گے : ڈاکٹر تصور
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات (ہلالِ امتیاز، ستارۂ امتیاز، تمغۂ امتیاز) نے کہا ہے کہ پائیدار تحقیق اور مؤثر پالیسی کے بغیر سٹرس کی پیداوار، بحالی اور برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔ سٹرس نہ صرف سرگودھا کی پہچان ہے بلکہ اس علاقے کی اہم ترین فصل بھی ہے ، جس کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہر ممکن عملی اور تحقیقی اقدامات کیے جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی کے ملٹی پرپز کمیٹی روم میں سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں، کنو کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود سرور اعوان، یونیورسٹی کے ڈینز، رجسٹرار، ڈائریکٹر اورک، کالج آف ایگریکلچر کے سینئر اساتذہ، نائب صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سرگودھا راؤ حمزہ قیوم، سینئر ایگزیکٹو ممبر رانا شاہد محمود، عبداللہ مسعود اور اختر سعید گوندل بھی موجود تھے ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں پیدا ہونے والی اجناس اور پھل اپنے منفرد ذائقے کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سٹرس بھی پاکستان کی اہم زرعی پیداوار میں شامل ہے ، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اسے وائرس، مختلف بیماریوں اور برآمدات سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح معاشرے کو مختلف سماجی مسائل درپیش ہیں، اسی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
ان مسائل کا حل تلاش کرنا زرعی ماہرین، اساتذہ اور محققین کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے سٹرس کے برآمد کنندگان کو بتایا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اس فصل پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، جبکہ سٹرس کی بحالی کے لیے ماڈل زرعی فارم بھی قائم کیے جائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ زراعت کی ترقی میں سائنس دانوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے اور زرعی مسائل کے حل کے لیے مربوط تحقیقی کوششیں ضروری ہیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد سٹرس کی بحالی، اسے بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور اس کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے ۔ ان اہداف کا حصول کاشتکاروں کے ساتھ مؤثر رابطے اور باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ سٹرس کو وائرس سمیت خطرناک بیماریوں سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے ، جبکہ فصل کی بہتری اور بحالی کے لیے پاکستان کے زرعی تحقیقی اداروں کے ساتھ معاہدوں کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔اس موقع پر چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں، نمائندوں اور کنو کے برآمد کنندگان نے وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے ماہرین کو اپنی تجاویز پیش کیں اور مسائل و تحفظات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سٹرس کی بحالی اور ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments