سیاسی مداخلت ، مارکیٹ کمیٹی مبینہ بدعنوانی کا گڑھ بن گئی
سیاسی مداخلت ، مارکیٹ کمیٹی مبینہ بدعنوانی کا گڑھ بن گئیمعمولی کام کے لیے بھی ’’نذرانہ‘‘دینا لازمی سمجھا جاتا ،انکار پر فائلیں روک دی جاتی ہیں
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) بیوروکریسی کی غلام گردشوں اور سیاسی مداخلت کے باعث اربوں کے اثاثے ، کروڑوں کے بقایاجات، مارکیٹ کمیٹی مبینہ بدعنوانی کا گڑھ بن گئی،موجودہ انتظامیہ کی جانب سے سخت ایکشن کے عندیہ کے باوجود صورتحال بہتر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ،ذرائع کے مطابق مقامی تاجروں اور دکانداروں نے انکشاف کیا ہے کہ دکانوں کی الاٹمنٹ، ٹرانسفر، نقشوں کی منظوری اور ریونیو وصولی سمیت دیگر امور میں باقاعدہ طور پر رشوت کا کلچر قائم ہو چکا ہے ، جہاں معمولی سے معمولی کام کے لیے بھی \"نذرانہ\" دینا لازمی سمجھا جاتا ہے ، جبکہ انکار کی صورت میں فائلیں جان بوجھ کر روک دی جاتی ہیں۔ادھر ایشیا بینک سے لیا گیا قرضہ سود سمیت کئی گنا بڑھ چکا ہے ، جس نے مارکیٹ کمیٹی کو مالی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت بقایاجات وصول کیے جاتے اور شفافیت کو یقینی بنایا جاتا تو نہ صرف قرضہ اتارا جا سکتا تھا بلکہ ادارہ منافع بخش بھی بن سکتا تھا،دوسری جانب 1996 میں منڈ ی کے قیام کے وقت 73 دکانوں کی نیلامی عمل میں لائی گئی۔
، جن کی قیمت 20 لاکھ سے 40 لاکھ روپے کے درمیان مقرر ہوئی، تاہم صرف 24 دکانوں کی ادائیگی مکمل ہو سکی جبکہ 49 دکانوں کے کروڑوں روپے آج تک وصول نہیں کیے جا سکے ۔ مختلف ادوار میں تعینات ہونے والے چیئرمینز، سیکرٹریز اور دیگر افسران نے نہ صرف غفلت کا مظاہرہ کیا بلکہ مبینہ طور پر آڑتیوں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے اس نظام کو جوں کا توں برقرار رکھا۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ انہی دکانوں کی مارکیٹ ویلیو تین تین کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے ، مگر عدالتی پیچیدگیوں، قبضہ مافیا کی موجودگی اور انتظامی کمزوری کے باعث نہ تو یہ رقوم وصول ہو رہی ہیں اور نہ ہی نئی نیلامی ممکن ہو پا رہی ہے ،زرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ضلعی انتظامیہ نے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بقایاجات کی وصولی، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی اور شفاف نیلامی کے لیے منصوبہ بندی شروع کردیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے مطابق ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت نہ صرف واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ غیر قانونی قابضین سے زمین واگزار کروا کر اسے شفاف طریقے سے دوبارہ نیلام کیا جائے گا۔