مرکزی و ئیر کے منصوبے پر عملدرآمد7 سال سے التواء کا شکار
مرکزی و ئیر کے منصوبے پر عملدرآمد7 سال سے التواء کا شکار ذخیرہ اندوزی کے باعث قومی خزانے پر کروڑوں کا اضافی بوجھ پڑنے کا انکشاف
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا ریجن میں متوقع سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے ریلیف سامان کی محفوظ ذخیرہ اندوزی کے لیے مرکزی ویٔر ہاؤس کے منصوبے پر عملدرآمد گزشتہ سات سال سے التواء کا شکار ہے جبکہ اس سلسلہ میں ہر سال حکومتی خزانے کو خطیر اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے اس کے باوجود عملدرآمد کا فقدان لمحہ فکریہ بن کر رہ گیا ہے ،ذرائع کے مطابق سرگودھا ریجن میں متوقع سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر سال ہنگامی بنیادوں پر ریلیف سامان کی خریداری کا عمل شروع کیا جاتا ہے ، تاہم مناسب ذخیرہ اندوزی اور دیکھ بھال کے نظام کی عدم موجودگی کے باعث قومی خزانے پر کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا انکشاف ہوا ہے ،ذرائع کے مطابق سیلابی ریلیف آپریشنز کے لیے خیموں، کشتیوں، حفاظتی آلات اور دیگر ضروری سامان سمیت مجموعی طور پر 70سے زائد اقسام کی اشیاء خریدی جاتی ہیں۔ ان میں بعض ہیوی مشینری بھی شامل ہوتی ہے ۔ تاہم سیلابی سیزن کے اختتام کے بعد مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بیشتر سامان اکثر اگلے سال تک ناقابل استعمال ہو جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں نئی خریداری ناگزیر بن جاتی ہے۔ ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اشیاء کی خریداری کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ ہر سال اسی مد میں کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے چند سال قبل ایک مرکزی ویٔر ہاؤس قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ریلیف سامان کو محفوظ رکھا جا سکے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جا سکے ،