امام حسینؓ سے محبت ایک فکری اور ایمانی تقاضا ،انتصار مہدی نقوی
امام حسینؓ سے محبت ایک فکری اور ایمانی تقاضا ،انتصار مہدی نقوی سیرت اور ان کی عظیم قربانی ہر دور کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ، گفتگو
داؤدخیل نماندہ دنیا) امام حسینؓ علیہ السلام سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک فکری اور ایمانی تقاضا ہے ۔ یہ محبت انسان کو حق، ص توداقت، عدل، صبر، استقامت اور قربانی کا درس دیتی ہے ۔ سیدنا امام حسینؓ علیہ السلام کی سیرت اور ان کی عظیم قربانی ہر دور کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن سماجی بہبود پکی شاہ مردان کے سربراہ علامہ سید انتصار مہدی نقوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ان کا مزید کہنا تھا۔جب تک محبتِ امام حسینؓ دلوں میں زندہ رہتی ہے ، حق اور باطل کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے ، ایمان کی حرارت برقرار رہتی ہے اور انسان حق کے راستے پر ثابت قدم رہتا ہے ۔ یہ محبت دلوں کو وفا، کردار کو مضبوطی اور فکر کو صحیح سمت عطا کرتی ہے ۔ محبتِ حسینؓ دراصل ان اعلیٰ انسانی اور اسلامی اقدار سے وابستگی کا نام ہے جن کی خاطر امامِ عالی مقامؓ نے میدانِ کربلا میں لازوال قربانی پیش کی۔جب یہ محبت کمزور پڑنے لگتی ہے تو فکری انتشار، اخلاقی زوال اور معاشرتی بے راہ روی جنم لینے لگتی ہے ۔ نتیجتاً حق اور باطل کی تمیز دھندلا جاتی ہے اور معاشرے میں انتشار و بے چینی بڑھنے لگتی ہے ۔ اس لیے محبتِ امام حسینؓ صرف ایک عقیدت نہیں بلکہ ایک زندہ شعور، ایک فکری روشنی اور ایک ایمانی ذمہ داری ہے جو ہر دور میں حق کی پہچان، باطل کے مقابلے میں استقامت اور دینِ اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔