35 کلومیٹر طویل کارپٹ روڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف
35 کلومیٹر طویل کارپٹ روڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف بڑی مقدار میں مٹی نکال کر سڑک کے کناروں اور سائڈز کی بھرائی میں استعمال کی
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) چبہ پرانا کے علاقے میں کروڑوں روپے کی لاگت سے زیر تعمیر 35 کلومیٹر طویل کارپٹ روڈ منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ، سڑک سے ملحقہ متاثرہ کاشتکاروں نے تحریری طور پر ڈپٹی کمشنر سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ منصوبے پر کام کرنے والی ٹھیکیدار کمپنی نے متعلقہ محکمے کی خاموشی اور مبینہ ملی بھگت سے سڑک سے ملحقہ نجی زرعی اراضی سے بھاری مشینری کے ذریعے بڑی مقدار میں مٹی نکال کر سڑک کے کناروں اور سائڈز کی بھرائی میں استعمال کی، جس سے زرعی زمینوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچاذرائع کے مطابق تعمیراتی معاہدے کی شرائط کے تحت ٹھیکیدار کو سڑک کی بھرائی کے لیے لیڈ مٹی کی خریداری اور اس کی نقل و حمل کی مد میں باقاعدہ ادائیگی کی جاتی ہے ، تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر اخراجات بچانے کے لیے کسانوں کی اجازت کے بغیر ان کی زمینوں سے مٹی نکال لی گئی، جو نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ سرکاری معاہدے اور متعلقہ قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے متاثرہ زمینداروں کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے مٹی نکالنے کے باعث ان کی زمینوں میں گہرے گڑھے اور کھائیاں بن چکی ہیں، جس سے قابلِ کاشت رقبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور مستقبل میں فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اہلِ علاقہ نے مزید الزام لگایا کہ سڑک کے متعدد حصے تاحال نامکمل اور ناقص معیار کے ہیں، جس سے منصوبے کی پائیداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔