فاروقہ:زیرِ زمین پانی ناقابلِ استعمال، شہری بیماریوں کا شکار

 فاروقہ:زیرِ زمین پانی ناقابلِ استعمال، شہری بیماریوں کا شکار

فاروقہ:زیرِ زمین پانی ناقابلِ استعمال، شہری بیماریوں کا شکار متعدد انتخابی وعدوں کے باوجود واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب نہ ہو سکی

فاروقہ/سرگودھا (نمائندہ دنیا)شہر بھر میں زیرِ زمین پانی ناقابلِ استعمال ہونے کے باعث شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں، جبکہ متعدد انتخابی وعدوں کے باوجود واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب نہ ہو سکی۔شہریوں کے مطابق ہر الیکشن میں امیدوار 15 واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کے وعدے کرتے ہیں، مگر کامیابی کے بعد انہیں فراموش کر دیتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کے ان وعدوں سے مایوس ہو کر الحیات ٹرسٹ نے شہر میں تین واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کروائے ، تاہم وہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے ۔بعد ازاں مسجد بابا جلال اور مسجد لوہاراں والی کی انتظامیہ نے اہلِ محلہ کے لیے گہرے بور کروا کر قابلِ استعمال پانی کی فراہمی کا انتظام کیا۔گزشتہ روز امیر جماعتِ اسلامی حاجی زاہد حسین نے مسجد حنفیہ میں ایک نئے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کروائی، جس کا افتتاح نمازِ جمعہ کے بعد نمازیوں نے کیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان فلاحی اقدامات کے باوجود شہر میں دو درجن سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس کی ضرورت برقرار ہے ، اور وہ اب بھی سیاسی رہنماؤں کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں