سٹرس پارک اور ماڈل فارمز کا خواب ادھورارہ گیا
جدید لیبارٹری کے قیام کا منصوبہ بھی تاحال مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، بیماریوں کے تدارک،باغبانوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے اقدامات متاثر منصوبے کی رفتار متاثر ہونے کی بڑی وجوہات میں فنڈز کی عدم فراہمی، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان اور روایتی سرکاری سست روی شامل
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سٹرس کی بحالی کا منصوبہ سست روی کا شکار، 50 ایکڑ پر سٹرس پارک اور 400 ماڈل فارمز کا خواب ادھورا رہ گیا۔ دنیا بھر میں کنو کے حوالے سے منفرد پہچان رکھنے والے سرگودھا میں سٹرس کی بحالی اور فروغ کے لیے شروع کیا جانے والا اہم منصوبہ مبینہ طور پر فنڈز کی کمی اور اداروں کے درمیان عدم رابطے کے باعث سست روی کا شکار ہو گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال حکومت کی جانب سے سرگودھا میں 50 ایکڑ رقبے پر سٹرس پارک کے قیام کی منظوری دی گئی تھی، جس کا مقصد سٹرس کی جدید تحقیق، بہتر پیداوار اور برآمدات کے فروغ کے لیے سہولیات فراہم کرنا تھا۔ منصوبے کے تحت ضلع بھر میں 400 ماڈل سٹرس فارمز قائم کیے جانے تھے ، جہاں جدید طریقہ کاشت کے ذریعے اعلیٰ اقسام کے کنو کے باغات تیار کیے جانے تھے ،مگر اس حوالے سے جہاں اقدامات سست روی کا شکار ہیں وہاں سٹرس کی بحالی کے لیے جدید لیبارٹری کے قیام کا منصوبہ بھی تاحال مطلوبہ رفتار سے مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، جس کے باعث بیماریوں کے تدارک، نئی اقسام کی تیاری اور باغبانوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں،فارمرز کا کہنا ہے کہ سرگودھا کے کنو کی عالمی مارکیٹ میں اہمیت کے باوجود سٹرس سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ منصوبے کی رفتار متاثر ہونے کی بڑی وجوہات میں مطلوبہ فنڈز کی عدم فراہمی، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان اور روایتی سرکاری سست روی شامل ہیں، اگر سٹرس پارک، ماڈل فارمز اور جدید لیبارٹری کے منصوبے بروقت مکمل نہ کیے گئے تو سرگودھا کے سٹرس سیکٹر کو درپیش مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے لیے فنڈز کا اجرا یقینی بنا کر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ کنو کی پیداوار، معیار اور برآمدات میں اضافہ ہو سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments