اختلافات کو اداروں پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے :پیر فاروق
افواج بارے ایسے الفاظ مناسب نہیں جو یکجہتی متاثر کریں:حسن پراچہ ،خالد آرائیں
بھیرہ (نامہ نگار)پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر وقت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں، لہٰذا سیاسی اختلافات کو قومی اداروں کے احترام پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے معروف سیاسی شخصیت و کالم نگار پیر فاروق بہاو الحق شاہ، وزیراعلیٰ شکایت سیل کے سابق چیئرمین حسن انعام پراچہ اور ویلفیئر کونسل تحصیل بھیرہ کے صدر چوہدری خالد محمود آرائیں نے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف رائے ہر جماعت کا حق ہے ، تاہم مسلح افواج کے بارے میں ایسے الفاظ مناسب نہیں جو قومی یکجہتی کو متاثر کریں۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کا احترام ہر پاکستانی پر لازم ہے پیر فاروق بہاوالحق شاہ نے کہا کہ شہدا کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کے نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں افسران و جوانوں نے وطن کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، جنہیں قوم ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔
حسن انعام پراچہ نے کہا کہ ہمارے جوان ہر وقت بارڈر پر موجود ہیں اور وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اگر پاکستان کی مسلح افواج ہر لمحہ چوکنا نہ ہوتیں تو ملک کو بھی خطے کے کئی دیگر ممالک کی طرح سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اور صورتحال مصر شام اور لبنان سے مختلف نہ ہوتی چوہدری خالد محمود آرائیں نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جا سکتی، اس لیے وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے شہدا اور غازی قوم کے حقیقی محسن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ قومی سلامتی، دفاعی اداروں اور شہدا کے احترام کے معاملے پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جن سے قومی اتحاد اور یکجہتی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments