ارینا واک اینڈ شاپ سنٹر:اربوں کی سرمایہ کاری کے باوجود منصوبہ غیر فعال

ارینا واک اینڈ شاپ سنٹر:اربوں کی سرمایہ کاری کے باوجود منصوبہ غیر فعال

لیز اور کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود 3 ماہ گزرنے کے بعد بھی منصوبہ ایل ڈی اے کے حوالے نہیں ہوا،کمرشل کمپلیکس 9 برس کے دوران خاطر خواہ آمدن پیدا نہیں کر سکا 84 دو منزلہ دکانیں اور شورومز ، 23 سپینش، 18 امریکن، 13 اٹالین، 18 مغل اور 12 چائنیز طرز کے پلازے تعمیر ،منصوبہ دوادوروں کے تنازع میں لٹک کررہ گیا

لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور کا اربوں روپے مالیت کا گلوبل ویلیج، جسے ارینا واک اینڈ شاپ سنٹر بھی کہا جاتا ہے ، آج بھی اپنے مستقبل کے فیصلے کا منتظر ہے ۔ دو سرکاری اداروں کے درمیان انتظامی تنازع نے اس بڑے کمرشل منصوبے کو عملی طور پر غیر فعال بنا دیا ہے ۔ لیز اور کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود تین ماہ گزرنے کے بعد بھی منصوبہ مکمل طور پر ایل ڈی اے کے حوالے نہیں کیا جا سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ نو برس گزرنے کے باوجود اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے کوئی قابلِ ذکر آمدن حاصل نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کے اربوں روپے مالیت کے گلوبل ویلیج، ارینا واک اینڈ شاپ سنٹر، کا مستقبل تاحال غیریقینی صورتحال کا شکار ہے ، جہاں انتظامی معاملات ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں منتقل نہ ہونے کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہے ۔ارینا واک اینڈ شاپ سنٹر کا لیز معاہدہ 9 اپریل کو منسوخ ہو گیا تھا۔ اس منصوبے کو سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پنجاب اتھارٹی نے ایل ڈی اے سے لیز پر حاصل کیا تھا اور اسے ایک منافع بخش کمرشل مرکز میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔نگران حکومت کے دور میں سی بی ڈی پنجاب نے اس منصوبے کا آپریشن ایک نجی کمپنی کے سپرد کیا، تاہم بعد ازاں اتھارٹی نے کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدہ بھی ختم کر دیا۔ دستاویزات کے مطابق ایم/ایس جینیسس ٹی ٹی سی جے وی کا معاہدہ 25 فروری 2026 سے ختم تصور کیا گیا، جس کے ساتھ تمام الاٹمنٹس، لائسنس اور اجازت نامے بھی خودکار طور پر منسوخ ہو گئے ۔

معاہدے کے خاتمے کے بعد لاہور گلوبل ویلیج کی مکمل ذمہ داری دوبارہ ایل ڈی اے کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود ہینڈنگ اوور اور ٹیکنگ اوور کا عمل مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث منصوبہ عملی طور پر غیرفعال ہے ۔یہ منصوبہ اس وقت تعمیر کیا گیا تھا جب موجودہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان بطور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ کمرشل کمپلیکس گزشتہ نو برس کے دوران خاطر خواہ آمدن پیدا نہیں کر سکا۔ارینا واک اینڈ شاپ سنٹر میں مجموعی طور پر 84 دو منزلہ دکانیں اور شورومز تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف عالمی طرزِ تعمیر کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 سپینش، 18 امریکن، 13 اٹالین، 18 مغل اور 12 چائنیز طرز کے پلازے بھی بنائے گئے ۔ منصوبے میں 18 مختلف اقسام کے ریسٹورنٹس کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی تھی ۔تاہم اربوں روپے کی سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور بلند دعوؤں کے باوجود منصوبہ آج بھی مکمل فعال نہیں ہو سکا، جبکہ اس کے انتظامی مستقبل اور مستقل آپریشنل ماڈل کا فیصلہ تاحال التوا کا شکار ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...