ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے خلاف وکلاء کی مکمل

ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے خلاف وکلاء کی مکمل

ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے خلاف وکلاء کی مکمل سسٹم سے متعلق نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا، وکلاء کی ہڑتال جاری رہے گا

بھیرہ(نامہ نگار )ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ سے متعلق ریونیو بورڈ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے خلاف تحصیل بار ایسوسی ایشن بھیرہ کے وکلاء نے بدھ کے روز مکمل ہڑتال کی۔ ہڑتال کے باعث وکلاء عدالتوں میں پیش نہ ہوئے اور عدالتی کارروائی متاثر رہی۔بار کے سابق صدر محمد شاہد القمر بھٹی ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریونیو بورڈ پنجاب کی جانب سے 7 اپریل 2026ء کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن پر پنجاب بار کونسل مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہی ہے ، تاہم حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود اب تک یہ نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس نظام سے نہ صرف سائلین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا بلکہ وکلاء بھی شدید متاثر ہوں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اپیلٹ کورٹ میں جانے والے سائلین کو مزید اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے ، جبکہ محکمہ مال نے یہ نوٹیفکیشن محض اپنے ریونیو میں اضافے کے لیے جاری کیا ہے ، جس میں شفافیت کا فقدان ہے ۔محمد شاہد القمر بھٹی ایڈووکیٹ نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پنجاب بار کونسل کے سرگودھا ڈویژن سے منتخب ارکان میاں عبدالقدیر جالپ ایڈووکیٹ، محمد ارشد ہنجرا ایڈووکیٹ اور دیگر نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نوٹیفکیشن کی منسوخی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔بھیرہ بار کے بانی اور سابق جنرل سیکرٹری مہر محمد نواز ایڈووکیٹ نے کہا جب تک ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم سے متعلق نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا، وکلاء کی ہڑتال اور احتجاج جاری رہے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...