زرعی اراضی کو دریا برد ہونے سے بچانے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہو سکی
خوشاب(نمائندہ دنیا)25ساگزرنے کے باوجود دریائے جہلم کے کناروں پر آباد مواضعات کی زرعی اراضی کو دریا برد ہونے سے بچانے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہو سکی۔
جس کی وجہ سے مون سون کے موسم میں طوفانی بارشوں کے باعث دریائے جہلم میں متوقع طغیاتی کے خدشہ نے ایک بار پھر کدھی کے مکینوں کو اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ،ضلعی حکومتوں کے پہلے دورانیہ میں کدھی کے مواضعات کوڑہ، ہموکہ اور جوڑہ کلاں کے قریب دریائے جہلم کے کٹاؤ سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظی پشتوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا جس پر آج تک عمل در آمد نہیں ہو سکا اور یہ منصوبہ ابھی تک گرد آلود فائلوں میں دبا ہوا ہے اور کدھی کے مواضعات بدستور دریا کے خونی کٹاو اور سیلابی ریلوں کی زد میں ہیں ، علاقہ کے مکینوں کئے مطابق ہر سیلابی موسم میں انہیں فصلات کے ساتھ ساتھ شدید جانی و مالی نقصان کا سامان کرنا پڑتا ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس صورتحال کے تدارک کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments