نابالغ لڑکی کا جعلی نکاح نامہ سامنے آنے پر مقدمہ درج
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) 15 سال 6 ماہ کی نابالغ لڑکی کے مبینہ نکاح کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا۔
نکاح نامہ مبینہ طور پر جعلی ثابت ہونے پر پولیس نے دولہا سمیت نکاح خواں، نکاح رجسٹرار اور گواہوں کے خلاف پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ترمیمی 2026 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ ایف آئی آر کے مطابق نیو سیٹلائٹ ٹاؤن کی رہائشی صائمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی نابالغ بیٹی کو چاند نے اپنے بھائی سہیل سنی اور اشرف کے مشورے سے اغوا کیا ۔اور اس کے ساتھ مبینہ طور پر جسمانی زیادتی کی، بعدازاں 11 مئی 2026 کا نکاح نامہ تیار کیا گیا۔
مدعیہ کے مطابق نکاح نامے کی تصدیق کے لیے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ منڈی بہاؤالدین سے رجوع کیا گیا تو نکاح نامہ مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا، جس پر متعلقہ افسر نے بھی ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی۔ ایف آئی آر میں محمد چاند، حافظ سلطان احمد، جو مبینہ طور پر وکیلِ دلہن اور نکاح خواں ہیں، ایوب علی نکاح رجسٹرار، رستم علی اور توقیر احمد نکاح کے گواہان جبکہ سہیل سنی اور محمد اشرف کو نامزد کیا گیا ہے ۔ مدعیہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے باہمی مشاورت سے اس کی نابالغ بیٹی کو اغوا کیا، مبینہ طور پر غیر قانونی نکاح کرایا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی شروع کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments