سی سیکشن کی بڑھتی شرح پر تشویش ہسپتالوں کے آڈٹ کا مطالبہ
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)سرگودھا کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں نارمل ڈلیوری ممکن ہونے کے باوجود سیزیرین آپریشن کیے جانے اور اس حوالے سے بچوں کی اموات کی شرح میں اضافے سے متعلق شکایات سامنے آنے پر زچگی کے نظام اور طبی نگرانی کا معاملہ زیر بحث آ گیا ہے ۔
شہریوں نے محکمہ صحت اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے ہسپتالوں کی کارکردگی کا آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن کی عبوری رپورٹ کے مطابق ضلع سرگودھا میں 2026 کے دوران سیزیرین آپریشنز کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔ شہریوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ بعض ہسپتالوں میں نارمل ڈلیوری کے لیے 20 سے 25 ہزار روپے ، جبکہ سیزیرین آپریشن کے لیے 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک اخراجات وصول کیے جانے کی شکایات ہیں۔
بعض نجی مراکز میں یہ اخراجات ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ روپے تک بتائے جاتے ہیں۔شکایت کنندگان کے مطابق بعض کیسز میں ماں یا بچے کی صحت سے متعلق خدشات ظاہر کرکے لواحقین کو آپریشن پر آمادہ کیا جاتا ہے ، حالانکہ ان کے بقول ابتدا میں نارمل ڈلیوری کا امکان ظاہر کیا گیا ہوتا ہے ۔ ان شکایات کے باعث زچگی کے طریقہ علاج کے انتخاب، طبی فیصلوں کی شفافیت اور اخراجات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق سیزیرین آپریشن ایک ضروری اور جان بچانے والا طریقہ علاج ہے ، تاہم اس کا فیصلہ ماں اور بچے کی طبی حالت اور حقیقی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے ۔شہریوں نے کمشنر سرگودھا، ضلعی محکمہ صحت اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی نارمل اور سیزیرین ڈلیوریوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے ، غیر معمولی شرح والے ہسپتالوں کے کیسز کی جانچ کی جائے اور بلاجواز آپریشن یا اضافی اخراجات سے متعلق شکایات ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments