ستھرا پنجاب ، صفائی ورکرز کی تنخواہوں میں تاخیر پر سوالات
ستھرا پنجاب ، صفائی ورکرز کی تنخواہوں میں تاخیر پر سوالات مطلوبہ افرادی قوت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے
فیصل آباد (سٹی رپورٹر)ستھرا پنجاب کا نعرہ تو گونج رہا ہے ، مگر گلیوں میں گندگی، ابلتے گٹروں اور صفائی کرنے والے ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق واضح کر رہے ہیں۔ فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں صفائی اور سیوریج کے مسائل شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔واسا اور ویسٹ مینجمنٹ کے اداروں میں عملی ورکرز کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے ۔ انتظامی اخراجات اور افسران کی تعداد کے مقابلے میں صفائی، کوڑا اٹھانے اور سیوریج کی بحالی کے لیے مطلوبہ افرادی قوت کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
جب عملی طور پر کام کرنے والے ہاتھ ہی کم ہوں گے تو شہریوں کو حقیقی ریلیف کیسے مل سکے گا؟دوسری جانب ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والے ورکرز کے استحصال اور تنخواہوں میں تاخیر کی شکایات بھی تشویش ناک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیور مین، سویپرز اور دیگر ملازمین تین تین ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے والے یہ محنت کش خود اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ان ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔
ٹھیکیدار پر یا متعلقہ اداروں پر؟ محنت کا معاوضہ بروقت ادا کرنا احسان نہیں بلکہ بنیادی حق ہے ۔صفائی کے مسائل برقرار رہنے اور تنخواہوں میں تاخیر کی شکایات سامنے آنے کے بعد سرکاری فنڈز اور ٹھیکوں کے استعمال کی شفاف جانچ بھی ضروری ہے ۔ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر کرپشن کے الزامات عائد کرنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ صفائی کے بجٹ، ٹھیکوں، مشینری کی دستیابی اور ملازمین کی تنخواہوں کا باقاعدہ آڈٹ کرائے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے ۔شہری حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا اور ویسٹ مینجمنٹ کے اداروں میں عملی ورکرز کی کمی دور کی جائے ، انتظامی اور فیلڈ اسٹاف کی تعداد میں توازن پیدا کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments