خوشاب میں ابھی تک اعلیٰ تعلیمی ادارے کی راہیں ہموار نہ ہو سکی
نوجوان نسل اپنے مستقبل کو بنانے کیلئے دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور
خوشاب(نمائندہ دنیا)ضلع خوشاب میں نوجواجوں کومقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا کرنے لئے مختلف ادوار میں کئے جانیوالے تین الگ الگ یونیورسٹیوں کے قیام کے اعلانات کے باوجود ابھی تک کسی ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے قیام کی راہیں ہموار نہ ہو سکیں اور ضلع خوشاب کی نوجوان نسل اپنے مستقبل کو بنانے کیلئے اب بھی دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہے ، اور مقامی سطح پر یونیورسٹیٰ کا قیام ایک خواب نظر آتا ہے ۔ علاقہ کے مکینوں کے مطابق جوہر آباد میں خوشاب یونیورسٹی کے قیام کا پہلا اعلان مسلم لیگی ایم این اے ملک شاکر پشیر اعوان نے کیا تھا جو اپنے دور میں اس اعلان پر عمل در آمد کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ،گزشتہ برس ضلع خوشاب کی سیاست میں اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک منصور عثمان اعوان کی انٹری ہوئی اور ان کے اعلانات و عملی اقدامات کے باعث ان کے اعلانات کو حرف آخرتصور کیا جانے لگااس میں کوئی شبہ نہیں انہوں نے علاقائی دویلپمنٹ کے لئے کئی انقلابی اقدام اٹھائے اور ان پر عملی پیش رفت بھی نظر آئی انہوں نے بھی ضلع خوشاب میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے قیام کا جو مژدہ سنایا اور یہاں تک اعلان کر دیا کہ رواں تعلیمی سیشن میں ہی اس یونیورسٹی کی عارضی عمارت میں کلاسز شروع کرا دی جائیں گی ۔ لیکن ان کے اعلان کو بھی عملی شکل نہ مل سکی، ضلع خوشاب کے مکینوں کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں سے ہر با اختیار عوامی نمائندہ انہیں لالی پاپ دے رہا ہے ۔ یونیورسٹی کے قیام کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments