خطرناک کیمیکلز کی خرید و فروخت، کسی بڑے حادثے کا خطرہ

خطرناک کیمیکلز کی خرید و فروخت، کسی بڑے حادثے کا خطرہ

رجسٹریشن کا عمل طویل عرصے سے التوا کا شکار ،بعض دکانداروں کی جانب سے خرید و فروخت کا باقاعدہ ریکارڈ بھی مرتب نہیں کیا جا رہا،انتظامیہ جائزہ بھی نہیں لے رہی نگرانی کا نظام غیر مؤثر ہونے کا خدشہ ،کسی بڑے حادثے یا تیزاب گردی کے واقعے کے بعد کارروائی کے بجائے پیشگی حفاظتی اقدامات انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ،شہری

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کی مبینہ عدم دلچسپی کے باعث سرگودھا میں تیزاب اور مختلف کیمیکلز کی خرید و فروخت کے نظام پر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ضروری قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کاروبار جاری ہے ، جس کے باعث خطرناک کیمیکلز کے غلط استعمال اور کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔سرگودھا سمیت مختلف اضلاع میں ان ضوابط پر عملدرآمد کی صورتحال تشویش ناک قرار دی جا رہی ہے۔

بائی لاز کے تحت تیزاب فروخت کرنے والوں کے لیے متعلقہ رجسٹریشن اور لائسنس کا حصول اور روزانہ کی بنیاد پر خرید و فروخت کا ریکارڈ مرتب کرنا ضروری ہے، تاکہ کیمیکلز کی فراہمی، استعمال اور فروخت کی نگرانی کی جا سکے، مگر ذرائع کے مطابق سرگودھا میں رجسٹریشن کا عمل طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے اور بعض دکانداروں کی جانب سے خرید و فروخت کا باقاعدہ ریکارڈ بھی مرتب نہیں کیا جا رہا۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے بائی لاز کے نفاذ کے لیے ضروری نوٹیفکیشن اور انتظامی اقدامات بھی بروقت نہیں کیے جا رہے ، جس سے نگرانی کا نظام غیر مؤثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ شہری حلقوں کے مطابق کسی بڑے حادثے یا تیزاب گردی کے واقعے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پیشگی حفاظتی اقدامات کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...