اپنا کھیت پروگرام:ساڑھے 3 ہزار کاشتکار کسان کارڈ سے محروم
اپنا کھیت پروگرام:ساڑھے 3 ہزار کاشتکار کسان کارڈ سے محروم متعدد کاشتکاروں کے کوائف حکومت کو بھجوائے جانے کے باوجودتصدیق مکمل نہ ہو سکی
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)اپنا کھیت پروگرام کے تحت زمینوں کی نشاندہی میں مبینہ اقربا پروری کے باعث تنازعات نے جنم لے لیا ہے ، جبکہ دوسری جانب مختلف علاقوں میں اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے کے باعث سرگودھا ڈویژن کے 100 سے زائد دیہات کے ساڑھے 3 ہزار سے زائد کاشتکار کسان پیکیج کے تحت کسان کارڈ کی سہولت سے محروم ہیں۔ذرائع کے مطابق کسان پیکیج کے پہلے مرحلے میں سرگودھا ڈویژن کے 66 ہزار کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے مجموعی طور پر 7 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ۔ تاہم اس دوران انکشاف ہوا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کو پٹواریوں کی جانب سے فراہم کردہ زمینوں کی فہرستوں میں ایسے رقبے بھی شامل کر دیے گئے جو پہلے سے الاٹ شدہ تھے یا نجی ملکیتی حقوق کے تحت افراد کے زیرِ تصرف تھے ، جبکہ حکومت کی جانب سے غیر آباد سرکاری اراضی کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس صورتِ حال کے باعث اراضی پر قبضوں اور ملکیتی حقوق کے حوالے سے تنازعات پیدا ہوگئے ، جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد متعلقہ دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہے ۔دوسری جانب سرگودھا ڈویژن کے 100 سے زائد دیہات کا اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے کے باعث متعدد کاشتکاروں کے کوائف صوبائی حکومت کو بھجوائے جانے کے باوجود ان کی تصدیق مکمل نہ ہو سکی، جس کے نتیجے میں وہ بھی پروگرام سے باہر رہ گئے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ زراعت کے حکام نے صوبائی حکومت کو اس صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے سفارش کی تھی کہ متعلقہ دیہات کا اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے اور دیگر رکاوٹیں دور ہونے کے بعد متاثرہ کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے آئندہ مرحلے میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم متاثرہ دیہات کے ریکارڈ کی تکمیل اور کاشتکاروں کی پروگرام میں شمولیت کے حوالے سے تاحال کوئی نمایاں عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ حکومتی پروگرام پر عمل درآمد کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے متعلقہ افسران کا اضافی وقت اور وسائل صرف ہو رہے ہیں، جبکہ مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے بھی صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی۔دریں اثنا متاثرہ کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریونیو اور محکمہ زراعت کے حکام سے رپورٹ طلب کی جائے ، اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن میں تاخیر کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اہل کاشتکاروں کو محض سرکاری ریکارڈ کی تکنیکی خامیوں کے باعث زرعی مالی معاونت سے محروم نہ رکھا جائے اور ان کے اندراج و کسان کارڈ کے اجرا کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے تاکہ حکومتی کسان دوست پالیسیوں کے ثمرات حقیقی مستحقین تک پہنچ سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments