فیکٹریوں ، بھٹوں پر مزدوروں کے حفاظتی انتظامات ناقص

فیکٹریوں ، بھٹوں پر مزدوروں کے حفاظتی انتظامات ناقص

فیکٹریوں ، بھٹوں پر مزدوروں کے حفاظتی انتظامات ناقص فضائی آلودگی کے اثرات سے مزدوروں کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)سرگودھا سمیت ڈویژن بھر کی فیکٹریوں، چھوٹی صنعتوں اور اینٹوں کے بھٹوں میں مزدوروں کی صحت اور زندگیوں کے تحفظ کے لیے بنیادی حفاظتی انتظامات کی عدم فراہمی تشویشناک صورتحال اختیار کرنے لگی۔ موسم کی تیزی سے تبدیلی اور فضائی آلودگی کے اثرات سے مزدوروں کی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ، جبکہ متعدد صنعتی یونٹس میں مزدوروں کو حفاظتی ماسک، دستانے ، حفاظتی جوتے ، آنکھوں کی حفاظت کے آلات اور دیگر ضروری سامان فراہم نہ کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق خطرناک مشینری، گردوغبار، دھوئیں، کیمیکلز اور بھاری سامان کے درمیان کام کرنے والے محنت کش مناسب حفاظتی سہولیات کے بغیر ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں، جس سے حادثات اور پیشہ ورانہ بیماریوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

 موسم کی تبدیلی کے ساتھ دھند، سردی اور فضائی آلودگی کے اثرات بھی صنعتی مزدوروں کے لیے اضافی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، مگر متعلقہ محکموں کی مبینہ عدم توجہی کے باعث حفاظتی انتظامات کی نگرانی مؤثر دکھائی نہیں دیتی۔مزدوروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات تو جاری کی جاتی ہیں، لیکن فیکٹری مالکان کے اثرورسوخ اور متعلقہ اہلکاروں کے غیر سنجیدہ رویے کے باعث عملی چیکنگ محدود رہتی ہے ، جبکہ کاغذی کارروائی میں تمام انتظامات درست ظاہر کر دیے جاتے ہیں۔دوسری جانب پنجاب کے لیبر قوانین کے تحت آجر پر محفوظ ماحول فراہم کرنے ، خطرات کی نشاندہی، ضروری تربیت اور حفاظتی سامان کی فراہمی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔

قابلِ تشویش امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھی فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس میں مزدوروں کو حفاظتی سامان فراہم کرنے اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات دی جا چکی ہیں، اس کے باوجود مقامی سطح پر سامنے آنے والی شکایات حکومتی اقدامات اور عملی صورتحال کے درمیان فرق ظاہر کر رہی ہیں۔مزدوروں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ لیبر کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر فیکٹریوں، بھٹوں اور صنعتی یونٹس کی اچانک انسپکشن کروائی جائے ۔ حفاظتی سامان کی فراہمی، مشینری کے حفاظتی انتظامات، تربیت اور ہنگامی طبی سہولیات کی جانچ کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ محنت کشوں کی زندگیاں محض صنعتی منافع کی بھینٹ نہ چڑھیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...