ڈاکٹر رمیش کمار نے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے ٹاسک فورس کا مطالبہ کردیا
اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق حکومتی یقینی دہانیاں اور بیانات محض میڈیا تک محدود ہیں سردار سورن سنگھ کا قتل ملک کے انتہا پسند نظریات کے باعث ہوا، اقلیتوں کے نمائندہ وفد سے گفتگو
اسلام آباد (نمائندہ دنیا) پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد سے ملاقات میں ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے کہا کہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق حکومتی یقین دہانیاں اور بیانات محض میڈیا تک محدود ہیں۔ سندھ حکومت اقلیتوں، بالخصوص ہندوؤں کا تحفظ یقینی بنانے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ بابائے قوم نے بھی فرمایا تھا کہ پاکستان میں تمام باشندوں کو اپنے مذہبی اطوار کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سردار سورن سنگھ کے قتل کا ذمہ دار ملک کے انتہا پسند نظریات کو قرار دیا۔ ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 19 جون 2014 کے تفصیلی فیصلے کے نفاذ کے حوالے سے سندھ حکومت اور خیبر پختونخوا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں اقلیتی باشندوں کو ڈومیسائل اور دیگر معاملات میں زیادہ مسائل کا سامنا ہے ۔ انہوں نے پوجا، لیلان، سیما اور کرن مینگھواڑ کے مبینہ اغوا کی مذمت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اقلیتوں کے وفد نے اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔