پنجاب کا پہاڑی قبائلی علاقہ :معمول کے قوانین لاگو نہیں

پنجاب کا پہاڑی قبائلی علاقہ :معمول کے قوانین لاگو نہیں

ڈیرہ غازیخان کے سرحدی اور قبائلی علاقے قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے چیلنج بن گئے ہیں

ملتان(امجد بخاری)ڈیرہ غازیخان کے سرحدی اور قبائلی علاقے قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے چیلنج بن گئے ہیں، مجرمانہ سرگرمیوں اور دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث افراد کے لئے یہ سرحدی علاقے محفوظ پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ یہ علاقے بلوچستان سے ملتے ہیں اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقے ہیں جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر اور ذرائع مواصلات بھی نہیں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ان علاقوں میں بیشتر کارروائیاں کرتے ہوئے فضائی آمدورفت کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔چوٹی زیریں کا علاقہ جہاں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف آپریشن کیا گیا ، نسبتاًبہتر آبادی والا علاقہ ہے اور لغاری خاندان کا آبائی علاقہ ہونے کی نسبت شہرت رکھتا ہے ۔بستی بندوانی اور دادوان کی مشرقی سمت قومی شاہراہ این55اور شمالی سمت این70ہے لیکن اس کے جنوبی اورجنوب مغربی علاقے پہاڑی ہیں۔یہاں سے ایک رستہ اونچائی پر موجود چوٹی بالا کی طرف جاتا ہے اور ایک بڑے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان کے بعد نہر کوٹ، بارکھان اور کوہلو کے پہلو میں پنجاب کا قبائلی علاقہ موجود ہے جہاں معمول کے قوانین لاگو نہیں ہوتے بلکہ قبائلی قوانین کے ذریعے ان علاقوں کانظم و نسق چلایا جاتا ہے ، پنجاب اور بلوچستان کی سرحد پر واقع یہ علاقے مجرموں کے لئے چھپنے کی غرض سے بہترین علاقے ہیں ، آپریشن ردالفساد میں سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں کو فوکس کیا ہے ۔ ایک روز قبل سکیورٹی فورسز نے تونسہ میں کارروائی کی تھی اورگزشتہ روز چوٹی زیریں کے پہلو میں موجود بستی میں کارروائی کی گئی اور اس علاقے پر مسلسل نظررکھی جارہی تھی اور یہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں اور کچھ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد دہشت گرد عناصر کو پناہ دینے میں ملوث تھے جبکہ ان علاقوں میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں لائے گئے افراد کی بھی موجودگی کی اطلاعات ہیں ، ان علاقوں میں فورسز کی مزید کارروائیاں ہو سکتی ہیں اور اس آپریشن کوکوہ سلیمان کے اندرونی علاقوں اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں تک پھیلایا جاسکتا ہے لیکن اس آپریشن کو ٹارگٹڈ ہی رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں