افغانستان سے حملے نہ رکے تو فیصلہ کن کارروائی ہوگی:وزیر دفاع

 افغانستان سے حملے نہ رکے تو فیصلہ کن کارروائی ہوگی:وزیر دفاع

پختونخوا حکومت دہشتگر عناصر کیخلاف ریاستی آپریشن کا ساتھ دینے سے گریزاں افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان ایک ہی سکہ کے دو رخ :دنیانیوزسے گفتگو

لاہور (سلمان غنی) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور حملوں کے سدباب کی مکمل پوزیشن میں ہیں، تاہم سعودی عرب، قطر سمیت بعض دوست ممالک کی اپیل پر حتمی اقدام سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو پاکستان کی کارروائی فیصلہ کن اور نتیجہ خیز ہوگی۔دنیا نیوز سے مراکش میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں، دونوں کا ڈی این اے ایک ہے اور بدقسمتی سے خیبرپختونخوا کی حکومت بھی ان کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ پختونخوا حکومت دہشت گردی کے مرتکب عناصر کے خلاف ریاستی آپریشن کا ساتھ دینے سے گریزاں ہے ، جو ناقابلِ برداشت ہے ۔

افغان طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل دوحہ معاہدے کے تحت دنیا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کی ترجیحات بدل گئیں۔ پاکستان کے پاس افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرگرمیوں کے مصدقہ شواہد موجود ہیں، جو دوست ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھانے والوں کے خلاف ریاست کی طاقت استعمال کی جائے گی اور کسی کو اس پالیسی پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور شہدا کے خون کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں