انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کا ہر پرتشدد واقعہ پر اطلاق نہیں : سپریم کورٹ

انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کا ہر پرتشدد واقعہ پر اطلاق نہیں : سپریم کورٹ

کراچی مبینہ مقابلہ کیس میں پولیس اہلکاروں کو سزا غیر قانونی قرار دے کر کالعدم زیرِ بحث واقعہ دہشتگردی کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا3:رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ پاکستان نے واضح کیا کہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کا اطلاق ہر پرتشدد واقعے پر نہیں کیا جا سکتا، جاری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ کیس میں پولیس اہلکاروں کو دفعہ 27 اے ٹی اے کے تحت دی گئی سزا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا جبکہ ملزم ارشد کی بریت برقرار رکھی گئی۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پولیس اہلکاروں کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ بحث واقعہ دہشتگردی کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا اس لیے انسدادِ دہشتگردی عدالت کو مقدمہ سننے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔

مقدمے کے ریکارڈ سے کسی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی مقصد، یا حکومت و عوام کو خوفزدہ کرنے کی نیت ثابت نہیں ہوتی، جو دہشتگردی قرار دینے کیلئے لازمی عناصر ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض فائرنگ یا خوف و ہراس پیدا ہونا کسی واقعے کو خودبخود دہشتگردی کے زمرے میں نہیں لاتا۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے اس اقدام کو بھی قانونی تقاضوں کے منافی قرار دیا جس کے تحت ملزم کو بری کرنے کے بعد اسی ریکارڈ پر پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 27 اے ٹی اے کے تحت کارروائی کی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں