پی ٹی آئی میں اختلافات،علیمہ کا فیصلہ سازی میں کردار نمایاں
گنڈا پور کا مفاہمت کیلئے سرگرم ہونا معنی خیز ، سہیل آفریدی کی پوزیشن متاثر ہوسکتی
(تجزیہ :سلمان غنی)
مشکلات کا شکار پی ٹی آئی میں اختلافات میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ، اس کی بڑی وجہ علیمہ خان کو قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب پارٹی کا مضبوط دھڑا ان کے ساتھ کھڑا نظر آ رہاہے اور ابھی بھی فیصلہ سازی میں ان کا کردار نمایاں ہے ،آج علیمہ خان آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی،دوسری طرف اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی ،بیرسٹر گوہر ،علی امین گنڈا پور و دیگر احتجاجی کیفیت طاری رکھنے سے گریزاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حکومت کو دباؤ میں رکھنے کے اور آپشنز بھی ہیں جن پر کاربند رہنا چاہیے ، اور عمران خان کیلئے ریلیف کی خاطر مذاکراتی آپشن کو بند نہیں کرنا چاہیے ۔
اپوزیش کی حالیہ میٹنگز میں سوشل میڈیا کے بڑھتے کردار پر پی ٹی آئی میں تحفظات بڑھ رہے ہیں ۔ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی اس کیفیت سے اس لئے دوچار ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار کسی ایک شخص کے پاس نہیں ، جبکہ حکومت دباؤ میں نہیں آرہی اور اس نے اس صورتحال کو انتظامی مشینری پر چھوڑ رکھا ہے ،ادھر دوسری جانب محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد زیادہ سخت نظر آرہے ہیں، ان کی جانب سے لچک کے امکانات کم ہیں۔اس صورتحال نے پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں پریشانی اور بڑھا دی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے پی ٹی آئی کی سیاست میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی واپسی کے عمل سے بھی ایک نئی صورتحال طاری ہو سکتی ہے ۔علی امین گنڈا پور کے سرگرم ہونے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اپنے صوبہ میں پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے ۔علی امین گنڈا پور مزاحمتی سیاست کے بجائے مفاہمت کے حامی رہے ہیں اور اسی بنا پر ان کی فراغت ہوئی تھی اور اب پھر سے وہ مفاہمتی سرگرمیوں پر کاربند ہیں ، ان کے اس صورتحال میں سرگرم ہونے کو معنی خیز قرار دیا جارہا ہے ۔