عالمی بینکوں سے 60 کروڑ ڈالر فنانسنگ لینے کی تیاریاں، جلد لانگ ٹرم معاہدہ متوقع
سنگل ڈیجٹ میں شرح سود پر قرض حاصل کیا جائے گا، عالمی بینکوں کے کنسورشیم سے ٹرمز اینڈ کنڈیشن پر بات چیت شروع قرض رقم کموڈیٹی خریداری کیلئے استعمال کی جا سکے گی، حکومت نے اپریل میں 1.2ارب ڈالر یورو بانڈز کی ادائیگیاں کرنی ہیں
اسلام آباد (مدثرعلی رانا) حکومت اور بین الاقوامی کمرشل بینکوں کے درمیان 60کروڑ ڈالر فنانسنگ کے لیے معاہدہ طے پانے پر بات چیت جاری ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور کمرشل بینکوں کے درمیان لانگ ٹرم فنانسنگ معاہدہ طے پایا جائے گا۔ 60کروڑ ڈالر کی فنانسنگ کے لیے کنسورشیم کی قیادت سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کرے گا۔ قرض کی رقم کموڈیٹی خریداری کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔ وزارت خزانہ اور کمرشل بینکوں کے درمیان فنانسنگ معاہدہ طے پانے کے لیے کنسورشیم میں بینک آف چائنا اور آئی سی بی سی بینک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کنسورشیم میں دیگر بینکوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جو معاہدہ کرانے والے بینکوں میں شامل ہوں گے ۔ذرائع کے مطابق لانگ ٹرم فنانسنگ 7 فیصد سے زائد مگر سنگل ڈیجٹ شرح سود پر حاصل کی جائے گی۔ وزارت خزانہ نے عالمی بینکوں کے کنسورشیم سے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز پر بات چیت شروع کر دی ہے۔
سٹینڈرڈ چارٹرڈ کنسورشیم میں چائنیز بینک شامل ہیں۔ اپریل میں حکومت کو 1.3 ارب ڈالر یوروبانڈز کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ وزارت خزانہ حکام کی جانب سے رسپانس نہیں دیا گیا لیکن ذرائع نے بتایا کہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی جانب سے اہم کردار ادا کیا جا رہا ہے ۔رواں مالی سال کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ زرمبادلہ ذخائر ہدف کے مطابق ہیں۔ ذرائع کے مطابق رواں ماہ فروری میں 25 کروڑ ڈالر مالیت کے پانڈا بانڈز کے اجرا کا منصوبہ مؤخر کر دیا گیا کیونکہ وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل ہونے کے باعث فروری کے پہلے ہفتے میں پانڈا بانڈز کا اجرا ممکن نہیں ہو سکا۔ اب وزارت خزانہ حکام آئندہ ماہ کے دوران بانڈز کے اجرا کے لیے پرامید ہیں۔ 1.2 ارب ڈالر کی یوروبانڈز کی ادائیگی اپریل 2026 میں کرنی ہے جس کے لیے حکومت مالیاتی انتظامات کر رہی ہے ۔پانڈا بانڈز کے اجرا کے لیے وزارت خزانہ کی ورکنگ ابھی مکمل ہونا باقی ہے ۔ 25 کروڑ ڈالر پانڈا بانڈز کا ابتدائی اجرا گزشتہ مالی سال کے لیے منصوبہ تھا، جو اب چوتھی مرتبہ تبدیل ہوا ہے ۔
پانڈا بانڈز کے ذریعے ابتدائی طور پر 25 کروڑ ڈالر چینی یوآن کے برابر اکٹھے کیے جائیں گے ۔ پانڈا بانڈز کی مدت تین سال ہوگی اور شرح منافع مقررہ فکسڈ ریٹ پر ہوگی، جو سنگل ڈیجٹ میں رہنے کی توقع ہے ۔ ذرائع کے مطابق مارچ میں پانڈا بانڈز کا اجرا ضروری ہے کیونکہ اپریل 2026 میں ایک ارب ڈالر کی یوروبانڈز کی ادائیگی کرنی ہے جس کے لیے متبادل ذرائع سے زرمبادلہ حاصل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر پر بوجھ نہ پڑے ۔ترجمان وزارت خزانہ سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ آئی ایم ایف وفد اقتصادی جائزے کے لیے 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ معاشی ٹیم کی جانب سے آئی ایم ایف وفد کی آمد سے قبل تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز سے اہداف پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی طلب کی ہے ۔
معاشی ٹیم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اقتصادی کارکردگی اور آئی ایم ایف اہداف پر اعتماد میں لیا گیا، جس پر وزیراعظم نے وزارت خزانہ حکام کو تیسرے اقتصادی جائزے اور ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط کے لیے واضح احکامات جاری کیے ۔مرکزی بینک کے پاس تقریباً 16.15 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.18 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں جو مجموعی طور پر 21.33 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلیٹی قرض پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات رواں ماہ کے اختتام سے شروع ہوں گے اور مارچ میں مکمل ہوں گے ۔ مذاکرات مکمل ہونے پر حکومت کو تقریباً ایک ارب ڈالر سے زائد موصول ہوں گے ، اس کے علاوہ آر ایس ایف پروگرام کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط بھی موصول ہو گی۔