ریئل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے خصوصی پیکیج تیار،اوور سیز سرمایہ کاری پر خصوصی رعایتیں:ٹیکس چھوٹ،ہوم فنانسنگ پر5فیصد فکسڈ مارک اپ

 ریئل     اسٹیٹ  سیکٹر  کیلئے  خصوصی  پیکیج   تیار،اوور سیز  سرمایہ  کاری    پر  خصوصی  رعایتیں:ٹیکس  چھوٹ،ہوم  فنانسنگ  پر5فیصد  فکسڈ  مارک    اپ

گلف صورتحال میں سرمایہ کاری پاکستان لانے کی حکمت عملی بھی شامل ،سمندر پار پاکستانیوں کیلئے پراپرٹی خریداری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم ، فائلرز کوبھی ریلیف، پیکیج آئندہ ماہ متعارف اوورسیز پاکستانیز اور غیرملکیوں کوڈالرز میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے کیلئے سپیشل انویسٹمنٹ زونز، ریٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ، ایسکرو اکاؤنٹ متعارف اور تعمیراتی شعبے میں سہولیات کی تجویز

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے فروغ اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات پر مشتمل خصوصی پیکیج تیار کر لیا ۔ اوورسیز سرمایہ کاری پر خصوصی رعایتیں دینے اورایک کروڑ تک ہوم فنانسنگ پر5فیصد فکسڈ مارک اپ عائد کرنے کی تجویز ،اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پراپرٹی خریداری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم ، فائلرز کو ریلیف دینے کی تجویز، پیکیج آئندہ ماہ متعارف کرایا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سرگرمیوں کے فروغ ،اوورسیز پاکستانی اور غیرملکیوں کوڈالرز میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنے ، گلف کنٹریز کی صورتحال کے باعث سرمایہ کاری کو پاکستان لانے ، سپیشل انویسٹمنٹ زونز بنانے ، ریٹ رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ قائم کرنے ، ایسکرو اکاؤنٹقائم کرنے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سہولیات دینے سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔ایسکرو اکاؤنٹ ایک محفوظ مالیاتی طریقہ کے مطابق متعارف کرایا جائے گا جو خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان لین دین کو یقین دہانی کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے خریدار اپنا پیسہ ایک تیسرے فریق یا بینک میں جمع کرائے گا، بینک پر ایسکرو اکاؤنٹ کو منظم کرنے کی ذمہ داری ہوگی جبکہ پراپرٹی بیچنے والا اپنی پروڈکٹ یا سروس فراہم کرے گا۔

جب دونوں فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے تب ہی پیسہ بیچنے والے کو منتقل کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد دھوکہ دہی اور مالی نقصان کے خطرے کو کم کرنا اور لین دین کو شفاف اور محفوظ بنانا ہے ۔ابتدائی طور پر حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے یہ پیکیج آئندہ ماہ 7 اپریل کو متعارف کرایا جا سکتا ہے یا اس کے شیڈول میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے ۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ گلف ممالک کے طرز پر ریرا ماڈل بنایا جائے جو رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو منظم اور محفوظ بنانے کا نظام ہے ۔ اس کے تحت پراپرٹی ڈویلپرز اور ایجنٹس کو رجسٹر ہونا ضروری ہوگا اور خریدار کو شفاف معلومات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ اس ماڈل کے ذریعے پروجیکٹس کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جاتا ہے ، خریدار کے پیسے کے تحفظ کے لیے مالیاتی انتظامات جیسے ایسکرو اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے ہیں اور شکایات کے لیے ایک رسمی نظام موجود ہوتا ہے ۔ اس طرح ریرا ماڈل نہ صرف مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرتا ہے بلکہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے حقوق کی حفاظت بھی کرتا ہے ۔

اس پیکیج کے تحت گلف کی صورتحال کو دیکھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کو بھی ان کیش کرنے کا پلان ہے ۔ اس پیکیج کے تحت فائلرز کے لیے فوائد ہوں گے جبکہ نان فائلرز کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جائیں گے ۔ پیکیج کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سہولیات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔آئی ایم ایف کے پاس تجاویز تاحال منظوری کے مراحل میں ہیں جس میں شامل ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی خریدنے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جائے گی، اوورسیز کے لیے پراپرٹی خریداری پر ٹیکس چھوٹ کے لیے این او سی کی پابندی ختم ہوگی، ریئل اسٹیٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز بھی تیار ہے ۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے سے تعمیراتی شعبے کی ترقی اور اضافی ٹیکس جمع ہو سکے گا۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں بھی اہم اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جس میں شامل ہے کہ پراپرٹی کی خریداری پر لیٹ فائلرز اور نان فائلرز کے لیے ایف ای ڈی میں ردوبدل کی تجویز ہوگی۔ بجٹ میں پراپرٹی کے لین دین پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس میں ردوبدل کرنے کی تجویز ہے ۔ نئے بجٹ سے رئیل اسٹیٹ سے وابستہ بلڈرز اور ڈویلپرز کو رجسٹرڈ کیا جائے گا اور اس پیکیج کے تحت ایک کروڑ تک کی ہوم فنانسنگ پر 5 فیصد فکسڈ مارک اپ عائد ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں