یورپی یونین کو برآمدات 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکیں:ایس ایم تنویر

 یورپی یونین کو برآمدات 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکیں:ایس ایم تنویر

ریاست مخالف معاشی ہتھیارکا استعمال ملک دشمنی، متنازعہ بیانات قابل مذمت جی ایس پی سٹیٹس پر کوئی کمپرومائز نہیں کر ینگے :ذکی اعجاز، کامران ارشدودیگر

لاہور ( کامرس رپورٹر سے ) ایف پی سی سی آئی کے رہنماؤں نے جی ایس پی پلس سٹیٹس سے متعلق متنازعہ بیانات کی شدید مذمت کی اور جی ایس پی پلس سٹیٹس کو ملکی معیشت کی شہ رگ قرار دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے تمام پروٹوکولز پر عمل ہو رہا ہے اس سٹیٹس پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتے ۔ریجنل آفس ایف پی سی سی آئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ذکی اعجاز نے کہاکہ جی ایس پی پلس سٹیٹس پاکستانی برآمدات کی بنیاد ہے ، اس کے ذریعے یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے ، اگر یہ سٹیٹس ختم ہوا تو 10 سے 12 فیصد ڈیوٹی عائد ہو جائے گی، جس سے فیکٹریاں بند ہونے کا خدشہ ہے اور اس  کا فائدہ بھارت کو ہوگا، ریاست کیخلاف معاشی ہتھیار استعمال کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے ۔ ایف پی سی سی آئی گروپ کے پیٹرن انچیف اپٹما کے سابق چیئرمین ایس ایم تنویر نے کہا کہ 2014 میں ملنے والا جی ایس پی پلس سٹیٹس 2027 تک جاری ہے اور اس کے تحت 27 پروٹوکولز پر عمل درآمد ضروری ہے ۔ یورپی یونین کو برآمدات 2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ 38 فیصد برآمدات یورپ کو جا رہی ہیں۔ پاکستان کا عمل درآمد بھارت اور بنگلہ دیش سے بہتر ہے ، اس پر اعتراض بلا جواز ہے ،چیئر مین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ جی ایس پی پلس پروگرام سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ملکی معیشت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ پریگمیا کے چیئر مین علی عمران نے مطالبہ کیا کہ اس سٹیٹس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے ۔لاہور چیمبر کے نمائندے علی حسام نے بھی متنازعہ بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ سیاسی لوگ نہیں جو بھی ملکی معیشت کے خلاف بات کریگا، اس کی مخالفت کی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں